BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 February, 2007, 06:03 GMT 11:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متنازعہ کارٹون، وزیر کی حمایت
کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج (فائل فوٹو)
کارٹونوں کی اشاعت پر دنیا بھر میں مسلمانوں نے زبردست احتجاج کیا تھا
فرانس کے وزیرِ داخلہ اور صدارتی امیدوار نکولس سرکوزی نے اس جریدے کا دفاع کیا ہے جس پر فرانس کی دو مسلمان تنظیمیں پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازعہ کارٹون شائع کرنے پر مقدمہ کر رہی ہیں۔

فرانس کی دو مسلمان تنظیموں کا موقف ہے کہ چارلی ہیبڈو نامی جریدے نے ایک مذہب کے ماننے والوں کی تضحیک کی ہے۔ مذکورہ کارٹون پہلے ڈنمارک میں شائع ہوئے تھے جنہیں چارلی ہیبڈو نے فرانس میں دوبارہ شائع کیا تھا۔

نکولس سرکوزی کا حمایتی خط پیرس میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران پڑھ کر سنایا گیا اور اس کے نتیجے میں فرانس کی اہم ترین مسلمان تنظیم نے ایک ہمگامی اجلاس بھی طلب کیا ہے۔

اپنے خط میں نکولس سرکوزی نے کہا ہے کہ اگرچہ انہیں اس جریدے میں اکثر نشانہ بنایا جاتا ہے تاہم’وہ کارٹونوں کی عدم موجودگی کے مقابلے میں ان کی زیادتی کو ترجیح دیتے ہیں‘۔

مسلم تنظیمیوں نے سرکوزی کے خط کو حکومتی مداخلت قرار دیا ہے جبکہ پیرس کی گرینڈ مسجد کے نمائندے عبداللہ زکری نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ’سرکوزی کو غیر جانبدار رہنا چاہیے‘۔

دریں اثناء جریدے کے حامیوں کا جن میں کچھ فرانسیسی مسلمان بھی شامل ہیں کہنا ہے کہ یہ مقدمہ فرانس میں آزادی اظہار کے حق کے لیے ٹیسٹ کیس ہوگا۔ مسلمانوں کی شکایت پر بدھ کے روز شروع ہونے والے مقدمہ پر دو روز تک کارروائی ہوگی۔

فرانس میں اسلامی تنظیموں کے اتحاد نے پیرس کی بڑی مسجد میں ایک بیان میں کہا ہے کہ جریدے نے کارٹون شائع کرنے کا فیصلہ صرف مسلمانوں کو بھڑکانے کے لیے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا اسلام دشمنی اور کاروباری پہلو کے مد نظر کیا گیا تھا۔

مذکورہ کارٹون سب سے پہلے سن دو ہزار پانچ میں ڈنمارک میں شائع ہوئے تھے جس کے خلاف دنیا بھر میں مسلمانوں نے زبردست احتجاج کیا تھا۔ جس اخبار میں یہ کارٹون شائع ہوئے تھے اس کے اداریے میں کہا گیا تھا کہ ایسا ڈنمارک کے ذرائع ابلاغ میں خود پر لگائی گئی بیجا پابندیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ کارٹون یورپ کے مختلف اخبارات اور جرائد میں شائع کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد