BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 January, 2007, 05:13 GMT 10:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’متنازعہ کارٹون پر قتل کی ترغیب‘
عمران جاوید
عمران جاوید کے مطابق انہوں نے صرف نعرے بازی کی اور اس پر انہیں افسوس ہے
پیغمبرِ اسلام کے متنازعہ کارٹون بنائے جانے کے خلاف لندن میں ایک احتجاج کے دوران قتل کرنے کی ترغیب دینے کے الزام میں ایک برطانوی مسلمان کو قصور وار قرار دے دیا گیا ہے۔

برمنگھم سے تعلق رکھنے والے ستائیس سالہ عمران جاوید پر نسل پرستانہ جذبات بھڑکانے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔

تین فروری دو ہزار چھ کو برطانیہ میں ڈنمارک کے سفارت خانے کے باہر مظاہرین کے ایک مجمع سے خطاب کرتے ہوئے عمران جاوید نے مبینہ طور پر کہا تھا ’بم، بم ڈنمارک‘ بم، بم امریکہ‘۔

عدالت میں بیان دیتے ہوئے عمران نے کہا کہ وہ صرف ’نعرے بازی‘ تھی اور انہیں اس پر افسوس ہے۔

پولیس کی تحویل میں ملزم کا ریمانڈ دیتے ہوئے جج برائن بارکر کا کہنا تھا کہ وہ اس مقدمے کا فیصلہ اس وقت تک نہیں سنائیں گے جب تک کہ اسی نوعیت کے باقی مقدموں کی سماعت مکمل نہیں ہو جاتی۔ خیال کیا جا رہا کہ ان مقدمات کی سماعت اس سال اپریل میں مکمل کر لی جائے گی۔

مظاہرین
عدالت کے باہر کچھ لوگوں نے مظاہرہ بھی کیا

برطانوی قانون میں قتل کے لیے اکسانے کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔عمران جاوید کو جب مجرم قرار دیا گیا تو عدالت کی پبلک گیلری میں موجود لوگوں میں کچھ ہلچل ہوئی اور بعد میں سکیورٹی کے عملہ کو ایک شخص کو باہر لے جاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

برطانیہ میں استغاثہ کے محکمہ ’ کراؤن پراسیکیوشن سروسز‘ سے تعلق رکھنے والی خاتون سو ہیمنگ کا کہنا تھا کہ وہ ایسے مقدمات کو نمٹاتے ہوئے آزادیِ اظہار کے پہلو کو سامنے رکھتی ہیں لیکن عمران جاوید نے اپنی تقریر میں اپنے سامعین کو ڈنمارک اور امریکہ کے لوگوں کو قتل کرنے کی واضح ترغیب دی تھی۔

ان کا کہنا تھا ’قانون اس حوالے سے واضح ہے کہ آزادی اظہار کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ لوگوں کو دھمکایا جائے اور نسل پرستانہ نفرت کو ہوا دی جائے‘۔

مظاہرہ
کارٹونوں کے خلاف مسلمانوں نے پوری دنیا میں احتجاجی مظاہرے کیے تھے

برطانیہ میں کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم ’المہاجرون‘ کے ترجمان انجم چوہدری نے عمران جاوید کو مجرم قرار دیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں انصاف کی توقع نہیں۔

پیغمبر اسلام کے بارے میں کارٹون پہلے ڈنمارک کے ایک اخبار میں شائع ہوئے تھے اور بعد میں بعض دوسرے یورپی ممالک کے اخبارات نے بھی انہیں شائع کیا تھا۔ تاہم برطانیہ میں کسی اخبار نے یہ کارٹون شائع نہیں کیے۔ان کارٹونوں کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے مسلمانوں نے پوری دنیا میں احتجاج کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد