BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 November, 2007, 01:35 GMT 06:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
توہین مذہب: ٹیچر کو سزا
جلیئن گبنز
برطانوی ٹیچر کو پندرہ روز قید اور بعد ملک بدری کی سزا سنائی گئی ہے
سوڈان میں مقیم ایک برطانوی سکول ٹیچر جلیئن گبنز کو توہین مذہب کا مجرم پایا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سکول کے بچوں کو یہ اجازت دی تھی کہ وہ اپنے ٹیڈی بیئر کا نام محمد رکھ لیں۔

برطانیہ کے شہر لیورپول کی رہنے والی 54 سالہ جلیئن گبنز کو پندرہ دن قید کی سزا سنائی گئی ہے جس کے بعد انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔

ان پر لگائے گۓ تین الزامات میں سے انہیں صرف توہین مذہب کا مرتکب پایا گیا ہے جبکہ مذہبی عقائد سے حقارت اور نفرت کے فروغ جیسے الزامات سے وہ بری قرار پائی ہیں۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے برطانوی ٹیچر کی سزا پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ میں سوڈان کے سفارتکار عمر صدیق کو دفترِ خارجہ بلا کر اس فیصلے کے متعلق پوچھا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ 45 منٹ کی اس ملاقات کے دوران برطانوی وزیرِ خارجہ نے سوڈان کے نائب وزیرِ حارجہ سے بھی ٹیلیفون پر بات کی۔

مسز گبنز کو اتوار کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب کئی والدین نے سوڈان کی وزارتِ تعلیم سے شکایت کی تھی کہ ٹیچر نے بچوں کو ٹیڈی بیر کا نام محمد رکھنے کی اجازت دی ہے۔

اپنے ایک بیان میں وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے بھی کہا تھا کہ انہیں جلیئن گبنز کے خلاف لگائے جانے والے الزامات پر ’حیرت اور مایوسی‘ ہوئی ہے۔

سوڈان میں لایڈی بیئر کی سیل
ٹیچر کا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ جان بوجھ کر اسلامی عقیدے کی توہین کریں:مسلم کونسل آف برٹن

برطانیہ میں مسلم کونسل آف برٹن نے جلیئن گبنز کے خلاف الزامات پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

تنظیم کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد عبدالباری نے ایک سخت بیان میں کہا: ’یہ فیصلہ شرمناک ہے اور عقلِ سلیم کے خلاف ہے۔ یہ واضح ہے کہ ٹیچر کا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ جان بوجھ کر اسلامی عقیدے کی توہین کریں۔‘

ڈاکٹر باری نے سوڈانی صدر عمر البشیر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں فوری طور پر مداخلت کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ مسز گبنز کو اس ’شرمناک اور مشکل صورتِ حال‘ سے فوری رہائی ملے۔

اس سے قبل لندن میں سوڈانی سفارت خانے نے کہا تھا کہ یہ چھوٹا سے مسئلہ ہے اور یہ کہ ٹیچر کو جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔ سفارت خانے نے کہا تھا کہ یہ واقعہ ثقافتی غلط فہمی کی پیداوار ہے۔

دوسری طرف آرچ بشپ آف کنٹربری روان ولیمز نے بھی کہا ہے کہ انہیں اس سزا کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد