توہین مذہب: ٹیچر کو سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوڈان میں مقیم ایک برطانوی سکول ٹیچر جلیئن گبنز کو توہین مذہب کا مجرم پایا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سکول کے بچوں کو یہ اجازت دی تھی کہ وہ اپنے ٹیڈی بیئر کا نام محمد رکھ لیں۔ برطانیہ کے شہر لیورپول کی رہنے والی 54 سالہ جلیئن گبنز کو پندرہ دن قید کی سزا سنائی گئی ہے جس کے بعد انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔ ان پر لگائے گۓ تین الزامات میں سے انہیں صرف توہین مذہب کا مرتکب پایا گیا ہے جبکہ مذہبی عقائد سے حقارت اور نفرت کے فروغ جیسے الزامات سے وہ بری قرار پائی ہیں۔ برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے برطانوی ٹیچر کی سزا پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ میں سوڈان کے سفارتکار عمر صدیق کو دفترِ خارجہ بلا کر اس فیصلے کے متعلق پوچھا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ 45 منٹ کی اس ملاقات کے دوران برطانوی وزیرِ خارجہ نے سوڈان کے نائب وزیرِ حارجہ سے بھی ٹیلیفون پر بات کی۔ مسز گبنز کو اتوار کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب کئی والدین نے سوڈان کی وزارتِ تعلیم سے شکایت کی تھی کہ ٹیچر نے بچوں کو ٹیڈی بیر کا نام محمد رکھنے کی اجازت دی ہے۔ اپنے ایک بیان میں وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے بھی کہا تھا کہ انہیں جلیئن گبنز کے خلاف لگائے جانے والے الزامات پر ’حیرت اور مایوسی‘ ہوئی ہے۔
برطانیہ میں مسلم کونسل آف برٹن نے جلیئن گبنز کے خلاف الزامات پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ تنظیم کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد عبدالباری نے ایک سخت بیان میں کہا: ’یہ فیصلہ شرمناک ہے اور عقلِ سلیم کے خلاف ہے۔ یہ واضح ہے کہ ٹیچر کا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ جان بوجھ کر اسلامی عقیدے کی توہین کریں۔‘ ڈاکٹر باری نے سوڈانی صدر عمر البشیر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں فوری طور پر مداخلت کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ مسز گبنز کو اس ’شرمناک اور مشکل صورتِ حال‘ سے فوری رہائی ملے۔ اس سے قبل لندن میں سوڈانی سفارت خانے نے کہا تھا کہ یہ چھوٹا سے مسئلہ ہے اور یہ کہ ٹیچر کو جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔ سفارت خانے نے کہا تھا کہ یہ واقعہ ثقافتی غلط فہمی کی پیداوار ہے۔ دوسری طرف آرچ بشپ آف کنٹربری روان ولیمز نے بھی کہا ہے کہ انہیں اس سزا کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔ | اسی بارے میں ٹیچر پر توہینِ رسالت کا الزام29 November, 2007 | آس پاس متنازع کارٹون پر چرچ کی معذرت21 March, 2006 | آس پاس پیغمبر اسلام کے نئے کارٹون پر تنازعہ15 September, 2007 | آس پاس سویڈن کے کارٹونسٹ کو تحفظ مل گیا18 September, 2007 | آس پاس متنازعہ کارٹون، وزیر کی حمایت07 February, 2007 | آس پاس ’متنازعہ کارٹون پر قتل کی ترغیب‘06 January, 2007 | آس پاس کارٹون تنازع: یمن میں مدیر کو جیل26 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||