BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 October, 2007, 07:01 GMT 12:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سعودیہ برطانیہ دوستی، نئے دور میں

بکِنگھم محل
بکِنگھم محل کے راستے پر برطانیہ اور سعودی عرب کے پرچم لہرا رہےہیں
سعودی عرب کے شاہ عبداللہ پیر کو برطانیہ کے دورے پر پہنچ رہے ہیں جو بیس برس میں کسی سعودی حکمران کا برطانیہ کا پہلا دورہ ہے۔ شاہ عبداللہ بکنگھم محل میں ملکہ الزبتھ دوئم کے مہمان ہوں گے اور بدھ کے روز برطانوی سیاستدانوں سے ملاقات کریں گے۔

شاہ عبداللہ کا دورہ سالوں کی محتاط سفارتکاری کا نتیجہ ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں برطانیہ کا قریب ترین حلیف بن چکا ہے۔

پیر کے روز سعودی عرب کے بادشاہ اور ان کا وفد پانچ طیاروں میں لندن پہنچے گا جس میں صحافی، کاروباری طبقے کے لوگ اور سعودی کابینہ کے ارکان شامل ہوں گے۔

سعودی عرب اور برطانیہ ایک دوسرے کے لیے اہم ہیں اور ان کے تعلقات کی بنیاد صرف تجارت نہیں گو کہ گزشتہ سال برطانیہ سے ساڑھے تین ارب پاؤنڈ کا سامان سعودی عرب کو فروخت کیا گیا۔

بیس ہزار برطانوی شہری سعودی عرب میں قیام پذیر ہیں اور برطانیہ کو سعودی عرب کو ٹائی فون جیٹ فروخت کرنے کا ایک بڑا ٹھیکہ بھی مِل گیا ہے۔
یہ سمجھوتہ غیر متنازعہ نہیں تھا۔ سن دو ہزار چھ میں برطانیہ میں بڑے فراڈ پکڑنے والے ادارے نے سن انیس سو اسّی کی دہائی میں سعودی برطانوی اسلحہ معاہدوں میں کرپشن کے الزامات کی تفتیش کے سلسلے میں سعودی شہزادوں کے سوٹزرلینڈ کے بنکوں میں کھاتوں کی تحقیقات کی بات کی تھی۔

سعودی عرب نے اشارہ دیا تھا کہ اگر یہ تفتیش جاری رہی تو دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردی کے معاملات میں تعاون ختم ہو جائے گا۔

برطانیہ میں اس وقت کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے یہ تفتیش رکوا دی تھی جس پر برطانیہ اور یورپ میں کرپشن کے خلاف کام کرنے والے کارکنوں نے شدید احتجاج کیا تھا۔

برطانوی اور سعودی حکام دونوں کی خواہش ہے کہ اس ہفتے شاہ عبداللہ کے دورے کے دوران یہ تنازعہ دوسرے ایجنڈے پر اثر انداز نہیں ہوگا۔

پیر کے روز دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ اور سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل کی تقاریر سے ہوگا۔

 سعودی عرب اور برطانیہ ایک دوسرے کے لیے اہم ہیں اور ان کے تعلقات کی بنیاد صرف تجارت نہیں گو کہ گزشتہ سال برطانیہ سے ساڑھے تین ارب پاؤنڈ کا سامان سعودی عرب کو فروخت کیا گیا۔

برطانوی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ کانفرنس میں نوجوانوں کی تعلیم اور ثقافتی رابطوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ تاہم سعودی برطانوی تعلقات میں بڑھتی ہوئی تجارت اور مشرقی وسطیٰ کے مسئلے کے حل کے لیے سلامتی اور ثقافتی امور میں تعاون کو اہمیت حاصل ہے۔

فلسطینی اور اسرائیلی تنازعہ کے حل کے لیے اب تک زیر غور واحد پروگرام شاہ عبداللہ نے سن دو ہزار دو میں پیش کیا تھا۔ سعودی عرب پس پردہ لبنان میں کشیدگی میں کمی اور عراق میں مزاحمت کے حل بھی تلاش کر رہا ہے۔ لیکن سعودی عرب کو اب سب سے زیادہ تشویش اپنے پڑوسی ایران اور اس کے جوہری پروگرام سے ہے۔ یہ معاملہ سعودی عرب کے لیے اتنا حساس ہے کہ شاہ عبداللہ نے حال ہی میں بی بی سی سے ایک انٹرویو کے دوران اس پر بات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ دورے کے دوران تمام مصروفیات کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی خواہش ہوگی کہ امریکہ میں نائن الیون کے حملوں کے بعد، جن میں حصہ لینے والے پندرہ لوگ سعودی شہری تھے، سعودی عرب کے بارے میں پیدا ہونے والے منفی تاثر کا سد باب کیا جا سکے۔

ابتدائی طور پر سعودی عرب کے شاہی خاندان نے ملک میں مذ؛ہبی انتہا پسندی سے انکار کیا تھا لیکن مئی دو ہزار تین میں ریاض میں بم دھماکوں کے بعد وہ کچھ اقدامات پر مجبور ہوئے تھے جن کے تحت نصاب میں تبدیلی کی گئی تھی اور انتہا پسند علماء کو بھی دوبارہ تربیت دی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں نوجوانوں کو پر تشدد جہاد سے روکنے کے لیے عوامی رابطۂ مہم بھی شروع کی گئی ہے۔

شاہ عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دہشت گردی کو شکست دینے میں بیس سے تیس سال لگ سکتے ہیں۔ سعودی قیادت کا کہنا ہے کہ انہوں نے برطانیہ کو ایسی معلومات فراہم کی تھیں جن پر اگر عمل کیا جاتا تو سن دو ہزار پانچ میں ہونے والے حملوں کو روکا جا سکتا تھا۔ برطانوی حکام اس سے انکار کرتے ہیں اور سلامتی کے امور کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کو بھی تحقیق کے بعد ایسے شواہد نہیں ملے کہ سعودی حکام نے ایسی اطلاعات فراہم کی تھیں جن سے سات جولائی کے حملے رک سکتے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد