BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کربلا عراقیوں کے حوالے کر دیا گیا
 کربلا
کربلا وہ اٹھارہواں صوبہ ہے جس کا کنٹرول عراقیوں کے حوالے کیا گیا ہے
کربلا میں سخت حفاظتی انتظامات میں ہونے والی ایک تقریب میں امریکی افواج نے عراق کے مرکزی صوبے کربلا کا نظم و نسق مقامی حکام کے حوالے کر دیا۔

ادھر ملک کے شمالی شہر بعقوبہ میں پولیس کے ہیڈکوارٹر پر ایک خود کش حملے میں ستائیس افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے ہیں۔

سنہ دو ہزار تین میں عراق پر اتحادی فوجوں کے قبضے کے بعد سے کربلا وہ اٹھارہواں صوبہ ہے جس کا کنٹرول عراقیوں کے حوالے کیا گیا ہے۔

کربلا کے ایک سٹیڈیم میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوری المالکی کا کہنا تھا کہ عراق کی اپنی سکیورٹی فورسز کھڑی کرنے میں بہت تاخیر ہوئی ہے۔ ’ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجیئے کہ اپنی سکیورٹی فورسز بنانے میں ہم نے تاخیر کی ہے بلکہ بہت تاخیر کی ہے۔ اس موقع پر میں ان وجوہات کا ذکر نہیں کرنا چاہتا جن کی وجہ سے یہ تاخیر ہوئی۔‘

تاہم وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ سال عراق میں سکیورٹی کا سال ہوگا جبکہ اگلے سال میں توجہ کا مرکز ملک کی تعمیر نو ہوگی۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جِم مائر کے مطابق اگرچہ کربلا کو عراقیوں کے حوالے کر دیا گیا ہے لیکن وہاں پر سکیورٹی کی صورتحال اب بھی خراب ہے کیونکہ دو ماہ قبل شیعہ عسکریت پسندوں اور پولیس کے درمیان تصادم میں پچاس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پولیس ہیڈکوارٹر پر ہونے والے حملے کی تفصیل بتاتے ہوئے بعقوبہ کی پولیس نے کہا کہ یہ حملہ ایک خود کش بمبار نے کیا جو سائیکل پر سوار تھا اور اس نے بارودی بیلٹ اپنے کپڑوں میں چھپائی ہوئی تھی۔

پولیس ہیڈکوارٹر بعقوبہ کے ایک رہائشی علاقے میں واقع ہے اس لیے عام کپڑوں میں ملبوس خود کش حملہ آور پر کسی کو شک نہیں گزرا اور حملہ آور نے پولیس اہلکاروں کی قطار کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ انہوں نے دھماکے سے تھوڑی ہی دیر پہلے ایک شخص کو پولیس ہیڈکوارٹر کی ٹوٹی ہوئی دیوار سے عمارت کے اندر گھستے ہوئے دیکھا تھا۔ دکاندار علی شاہین نے کہا کہ دھماکے کے بعد انہوں نے خون میں لت پت کئی لاشیں دیکھیں اور کئی لوگوں کے اعضاء بکھرے ہوئے تھے۔

بعقوبہ کے ایک ہسپتال کے ڈاکٹر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ان کے ہاں لائے جانے والے زخمیوں میں سے اکثر کو لوہے کے بنے ہوئے بارود سے بھرے گیند لگے تھے۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ زیادہ تر زخمی بہت بری حالت میں تھے اور ان کے بچنے کے امکانات کم تھے۔

بعقوبہ صوبہ دیالہ کا دارالحکومت ہے جہاں کچھ عرصے سے مقامی قبائل امریکی اور عراقی فوج کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں جو علاقے میں سرگرم القاعدہ کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

اتوار کو نو مقامی قبائلی رہنماؤں کو اس وقت اغوا کر لیا گیا جب وہ بغداد میں ایک اجلاس میں شرکت کے بعد گھر لوٹ رہے تھے۔

اس کے علاوہ بعقوبہ پولیس کے سربراہ کو گزشتہ ماہ اس وقت ایک خود کش حملے میں مار دیا گیا تھا جب وہ سنّی اور شیعہ گروہوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے ایک مسجد میں پہنچے تھے۔

تشدد کے ان واقعات کے باوجود ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فروری میں امریکی فوج کی طرف سے مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائیاں تیز تر کرنے کے بعد سے عراق میں پر تشدد واقعات میں عمومی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد