عراق: امریکی سینیئرافسر مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی سفارتکاروں کی حفاظت کے ذمہ دار سینیئر افسر نے عراق میں غیرملکی سکیورٹی کمپنیوں کی نگرانی کے طریقہ کار پر شدید تنقید کی روشنی میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کے افسر رچرڈ گرفن نے اگرچہ اپنے خط میں اس معاملے کا ذکر نہیں کیا لیکن ان کے استعفے سے محض ایک دن قبل دفتر خارجہ نے فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ حکومت سکیورٹی کمپنیوں کی نگرانی سخت کر دے گی۔ واضح رہے کہ غیر ملکی سکیورٹی کپمنیوں پر تنقید اور الزامات میں بلیک واٹر کمپنی کے اہلکاروں کے ہاتھوں عراق شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد شدت آ گئی تھی۔ عراق کے موجودہ قوانین کے تحت غیر سرکاری سکیورٹی کمپنیوں پر ملک میں مقدمات نہیں چلائے جا سکتے لیکن اطلاعات ہیں کہ عراقی حکومت ایک نیا قانون متعارف کر رہی ہے جس کے تحت ان کمپنیوں پر عراق میں بھی مقدمات قائم کیے جا سکیں گے۔ عراقی حکومت کے ترجمان علی الدباغ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ کابینہ ایسے ایک بِل کے مسودے پر بحث کر رہی ہے اور اسے جلد ہی منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کر دیا جائے گا۔ شدید غلطیاں رچرڈ گرفن کی افسر اعلیٰ یعنی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے منگل کو ایک محکمانہ تفتیشی رپورٹ کی سفارشات کی منظوری دی جس میں فوری طور پر عراق میں سفارتکاروں کی حفاظت پر مامور غیرسرکاری کمپنیوں کی نگرانی سخت کرنے کو کہا گیا ہے۔ ان پرائیوٹ کپمنیوں میں سب سے زیادہ مشہور اور بڑی کپمنی بلیک واٹر ہے۔ عراقی حکومت بلیک واٹر کو گزشتہ مہینے سترہ بے گناہ شہریوں کو ہلاک کرنے کا ذمہ دار سمجھتی ہے اور چاہتی ہے کہ مذکورہ کمپنی سے عراق میں کام کرنے کی اجازت واپس لی جائے۔ بلیک واٹر کے سربراہ ان الزامات سے انکار کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں کمپنی کے اہلکاروں پر فائرنگ کے جواب میں ہوئی تھیں۔ | اسی بارے میں عراق:’شہریوں پر فائرنگ بلاجواز‘08 October, 2007 | آس پاس ’بلیک واٹر‘ کے خلاف تحقیقات23 September, 2007 | آس پاس میچ، بغداد میں سکیورٹی سخت29 July, 2007 | آس پاس عراق:’نجی کمپنیاں مِشن سے متصادم‘19 October, 2007 | آس پاس باغیانہ سرگرمیاں ناقابلِ قبول:عراق23 October, 2007 | آس پاس سکیورٹی آپریشن کامیاب ہورہا ہے:بش20 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||