عراق:’نجی کمپنیاں مِشن سے متصادم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ عراق میں نجی سکیورٹی کمپنیوں کا کام امریکی فوج کے مشن سے ’متصادم‘ ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ نجی کمپنیاں عراق میں امریکہ کے لیے ناگزیر ہیں اور اگر یہ نہ ہوں تو امریکہ کو مزید ہزاروں فوجی عراق بھیجنا پڑیں۔ امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ وہ جس نظر سے اس معاملے کو دیکھتے ہیں اس کے مطابق اب یہ مشن باہمی طور پر متصادم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے جو کچھ معلوم ہوا ہے اور جو ہماری ٹیم نے بتایا ہے اس سب کے مطابق اگر نرم الفاظ میں کہا جائے تو عراقیوں سے صحیح سلوک نہیں کیا گیا اور انہیں اشتعال دلایا گیا ہے‘۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع اس بات پر غور کر رہا ہے کہ تمام نجی سکیورٹی کمپنیوں کو ایک مرکزی اتھارٹی کے تحت کر دیا جائے تاکہ انہیں مزید کنٹرول کیا جا سکے۔ عراق میں حالیہ ماہ میں نجی سکیورٹی کمپنیوں کے محافظین کی جانب سے عراقی شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں اور عراقی حکومت نے بھی بلیک واٹر نامی کمنی کے محافظوں کے ہاتھوں سترہ عراقیوں کے ہلاکت کے بعد امریکہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس کمپنی سے تمام تعلق منقطع کر لے اور قتل کے ذمہ دار افراد کو سزا دی جائے۔ | اسی بارے میں نجی محافظوں کی فائرنگ، دو ہلاک09 October, 2007 | آس پاس عراق:’شہریوں پر فائرنگ بلاجواز‘08 October, 2007 | آس پاس ’بلیک واٹر‘ کے خلاف تحقیقات23 September, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||