’ذہینوں کا قتل اور ذہنوں کی ہجرت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سارہ متہنیٰ بغداد سے تعلق رکھنے والی طب کی ایک طالبہ ہیں جو اپنے والد کے اغواء کے بعد عراق سے بھاگ کر اردن میں مقیم ہیں۔ وہ بی بی سی عالمی سروس کے ’نیوز میکر‘ مقابلے کی فاتح ہیں جس میں نوجوان صحافیوں کو ایسی خبریں فراہم کرنے کو کہا گیا تھا جو ان کے لیے اہم ہوں۔سارہ نے عراق سے ہنرمند اور تعلیم یافتہ افراد کے فرار (برین ڈرین) پر کام کیا اور ان کی خبر کا مرکز عراق سے فرار ہونے والے اساتذہ، ڈاکٹر اور طالبعلم تھے۔ لوگ اعدادوشمار کے حوالے سے لاکھوں پناہ گزینوں کی بات کرتے ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک کی کہانی اپنی جگہ ایک المیہ ہے۔ جون سنہ 2006 میں جب میرے والد کو اغواء کر لیا گیا تو میں بھی اس المیےکا حصہ بن گئی اور ان اعدادوشمار کا بھی۔ میں جامعۂ بغداد کے طبی کالج کی طالبہ تھی اور تین برس بعد مجھے ڈاکٹر بن جانا تھا لیکن ایک جنگ زدہ شہر میں رہنے کا دباؤ ناقابلِ برداشت ثابت ہوا اور ہمیں ملک چھوڑنا پڑا۔ اب میں اور میری والدہ عمان میں رہتی ہیں جبکہ میرے رشتہ دار ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ میری بہن بغداد واپس چلی گئی ہے جبکہ میرے والد قریباً ڈیڑھ سال سےلاپتہ ہیں۔
ایک یورپی این جی او برسلز ٹرائبیونل نے گزشتہ دو برس میں قتل ہونے والے اساتذہ اور پروفیشنلز کی جو فہرست جاری کی ہے وہ پندرہ صفحات پر مشتمل ہے۔ جب میں نے اس فہرست کا جائزہ لیا تو پہلے چار صفحات پر ہی قریباً پچیس نام ایسے تھے جن سے میں شناسا تھی۔ ان میں وہ لوگ تھے جو عراقی معاشرے میں ایک اہم مقام کے حامل تھے اور ایسے ڈاکٹر بھی جو عرب بورڈ یا رائل کالج کے ممبران تھے۔ یہ افراد کسی قتل ِعام کے دوران نہیں مارے گئے بلکہ انہیں عمداً قتل کیا گیا ہے۔ ہلاک شدگان میں سے ایک ڈاکٹر میرے بچپن میں میرا طبیب تھا اور جب میں اس کے پاس جاتی اور دورانِ معائنہ رونے لگتی یا خوفزدہ ہوتی تو وہ مجھے مٹھائیاں دیا کرتا تھا۔ایک اور نام جس سے میں شناسا تھی جامعۂ بغداد کے صدر کا تھا جو اپنے کلینک میں قتل کر دیےگئے۔ ماہرین تعلیم وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا اسلحے یا قاتلوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن وہ انہی لوگوں کا نشانہ بنے۔ یہ واضح طور پر ذہین اور قابل دماغوں کے مالک عراقیوں کا قتل ہے جس سے میرا دل ٹوٹ سا گیا ہے۔ اور ان افراد کے قتل کے بعد اب بچ جانے والے ذہین اور قابل لوگ ملک چھوڑ کر جانے پر مجبور ہیں۔ ایک طالبعلم کا کہنا ہے کہ’بہت سے پروفیسر ملک چھوڑنا نہیں چاہتے۔ میری والدہ بغداد کالج میں پندرہ برس سے پڑھا رہی ہیں لیکن جب ان کے دو ساتھی یکے بعد دیگرے قتل کر دیےگئے تو انہیں ملک چھوڑنا پڑا‘۔ اب ہم سب یہاں عمان میں ہیں۔ ہم نہ تو واپس جا سکتے ہیں اور نہ اپنی پسند کا کام کر سکتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم نہ صرف اپنے ملک میں مقید تھے بلکہ یہاں بھی قید ہی ہیں۔ یہاں یونیورسٹی میں طالبعلموں کے لیے مطلوبہ نشستیں بھی نہیں۔ ہم اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتے ہیں لیکن کوئی ہمیں یہ موقع فراہم کرنے کو اور ہماری مدد کرنے کو تیار نہیں جبکہ ماضی میں عراق متعدد عرب ممالک کے طلباء کو مفت تعلیم کی سہولت فراہم کرتا رہا ہے۔دیگر طلباء بھی عرب ممالک سے خائف نظر آتے ہیں۔ ایک طالبعلم کا کہنا ہے’مجھے لگتا ہے جیسے کہ میں کوئی وائرس ہوں۔ ہر کوئی مجھے دھتکار رہا ہے‘۔ میں بغداد میں رہ جانے والے ہر کسی فرد کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ وہ ہمارے ہیرو ہیں اور ہم انہیں بہت یاد کرتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||