پیرو میں زلزلہ، سینکڑوں ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی امریکہ کے ملک پیرو کے ساحلی علاقوں میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں تین سو سینتیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ محکمۂ شہری دفاع کے مطابق اس زلزلے سے 827 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ امریکی جیالوجیکل سروے کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت سات اعشاریہ نو تھی اور پیرو کے محکمۂ شہری دفاع کے مطابق ہلاک شدگان میں سے ایک کے سوا سب کا تعلق ساحلی صوبے ایکا سے ہے۔ زلزلے کا مرکز لیما کے جنوب مشرق میں بحرالکاہل کی تقریباً ایک سو پینتالیس کلو میٹر گہرائی میں تھا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ریکٹر سکیل پر پانچ اعشاریہ چار سے پانچ اعشاریہ نو کی شدت سے چار جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام پونے سات اور برطانوی وقت کے مطابق بدھ کی رات پونے بارہ بجے کے قریب آیا۔اس کے جھٹکے پیرو کے دارالحکومت لیما میں بھی محسوس کیے گئے جس کے بعد لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ تاہم زلزلے کا زیادہ اثر ساحلی صوبے ایکا میں محسوس کیا گیا جہاں زلزلے سے نہ صرف متعدد عمارتیں منہدم ہوگئیں بلکہ بجلی اور مواصلات کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا۔
زلزلے کی ایک عینی شاہد لیما کی ایک رہائشی برانون کا کہنا تھاکہ ’عام طور پر اگر آپ گھر سے باہر ہوں تو زلزلے کا اثر محسوس نہیں ہوتا لیکن اس بار فٹ پاتھ تک ہل رہا تھا۔ چنانچہ میں دوڑ کر باغ میں چلی گئی۔ وہاں بھی میرے پیروں تلے زمین ہل رہی تھی‘۔ برانون نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا’ سب سے خوفناک چیز زلزلے کی آواز تھی۔ اوپر بجلی چمک رہی تھی اور نیچے سے آواز۔ ایسا لگتا تھا کہ ہم کسی جنگ کے مناظر والی فلم کے سیٹ پر آ گئے ہوں‘۔ اس موقع پر پیرو کے صدر ایلن گارشیا کا کہنا تھا کہ وہ تین وزراء کو متاثرہ علاقوں کی طرف روانہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خدا کا شکر ہے کہ زلزلے سے اتنی زیادہ تباہی نہیں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایکا میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے اور ہم اس سہ پہر متاثرہ علاقوں میں جا رہے ہیں۔ متعلقہ اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ متاثرین کو فوری امداد بہم پہنچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں‘۔
صدر نے لیما میں پولیس کو علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے احکامات بھی جاری کیے۔ عمارتوں کے غیر محفوظ ہونے کے خدشے کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں سکول بند کر دیے گئے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لیما اور اس کے مضافات میں واقع غریب افراد کی جھونپڑیوں سے اب تک تباہی کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ تاہم شہر میں جہاں ایک تہائی آبادی رہائش پذیر ہے، وہاں شاید ہی کوئی اتنے بڑے سانحے کو نظر انداز کر سکے۔ لیما کی ایک رہائشی بیرینس نے بتایا:’ انہیں زلزلے کے انتہائی جھٹکے محسوس ہوئے۔ کچھ لوگوں کو لگا جیسے دنیا ختم ہو گئی ہو۔ میں بہت سے ایسے لوگوں کو جانتی ہوں جو ابھی تک پریشانی کی کیفیت سے باہر نہیں آئے ہیں‘۔ قبل ازاں ملک کے کئی نشیبی علاقوں پیرو، چلی، اکواڈور اور کولمبیا کو سونامی کی وارننگ کے بعد خالی کروالیا گیا تھا تاہم بعد میں اس وارننگ کو واپس لے لیا گیا۔
پیرو کی نائب وزیرِ صحت کا کہنا ہے کہ چھ لاکھ پچاس ہزار نفوس پر مشتمل صوبے میں حالات بہت خراب ہیں۔ ایکا کے میئر ماریانو ناکی میئنتو کے مطابق انہوں نے حکومت سے ادویات، خیموں اور ہر قسم کی امداد کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ہم نے ایکا صوبے میں ایمرجنسی لگا دی ہے اور متاثرہ علاقوں میں ہر ممکن امداد پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ٹی وی اطلاعات کے مطابق ساحلی صوبے ایکا میں چرچ میں سہ پہر کی دعا کے دوران چرچ کی عمارت گرنے سے 17 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ ریڈیو پرورگرام ’ڈل پیرو‘ میں فون کرنے والوں نے بتایا کہ ایکا اور چنچا کے علاقوں کے مضافات میں واقع کئی مکانات منہدم ہو گئے اور کئی شہروں میں بجلی بھی غائب ہے۔ زلزلے کے مرکز سے ساٹھ کلو میٹر مشرق میں واقع گاؤں پسکو بھی بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے ایک فوٹو گرافر نے بتایا کہ چنچا میں ہسپتالوں کے فرش پر ہر طرف لاشیں پڑیں تھیں۔ امدادی کارکن ایکا پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ایکا شہر کے شمال میں ایک پل بھی گر گیا ہے۔ | اسی بارے میں سانپوں سے زلزلے کی پیشنگوئی29 December, 2006 | آس پاس بحر الکاہل اور جنوبی میں زلزلے25 March, 2007 | آس پاس چین میں زلزلہ، دو ہلاک03 June, 2007 | آس پاس سماٹرا زلزلہ، ستر افراد ہلاک06 March, 2007 | آس پاس تائیوان میں شدید زلزلہ26 December, 2006 | آس پاس جاوا زلزلہ: 3000 ہلاکتیں، ہزاروں زخمی27 May, 2006 | آس پاس زلزلہ: 100 ملین ڈالرامداد کی تجویز 24 October, 2005 | آس پاس زلزلہ: 18 ہلاک، 1000 زخمی23 October, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||