اجتماعی قبریں، تحقیقات کا نتیجہ؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں حال ہی میں دارالحکومت کابل کے شمال میں دریافت ہونے والی زیر زمین اجتماعی قبروں کا صحافیوں نے دورہ کیا ہے۔ ایک سابق اسلحہ ڈپو کے نیچے بنائی گئی زیر زمین جیل کی قبروں میں بعض لاشیں بیٹھی ہوئی، بعض لیٹی ہوئی اور کچھ لاشیں کپڑے پہنے ہوئی تھیں۔ یہ تو معلوم ہے کہ یہ لاشیں ماضی کی جنگوں کی دین ہیں لیکن یہ نہیں واضح ہے کہ افغانستان میں ہونے والی کس جنگ کی۔ اس طرح کی قبریں پہلے بھی دریافت ہوئی ہیں۔ حکام کے مطابق گیارہ ستمبر کے بعد امریکی فوجی کارروائی اور طالبان حکومت کے زوال کے بعد اب تک لگ بھگ بیس اجتماعی قبریں ملی ہیں۔ کمیشن کے سربراہ سابق چیف جسٹس فضل ہادی شناوری ہیں جنہوں نے صحافیوں کے ایک گروپ کو اجتماعی قبروں کا دورہ کرایا۔ سکیورٹی کے لیے یہاں افغان نیشنل آرمی تعینات کی گئی ہے۔ ہادی شناوری نے کمیشن کے اراکین کو اجتماعی قبروں میں موجود لاشوں کی تفصیلات درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے بتایا: ’یہاں ظلم ہوا ہے اور ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ یہاں ہوا کیا۔‘ اس اجتماعی قبر کی دریافت ایک پچہتر سالہ افغان نے حال ہی میں کی ہے۔ وہ انیس سو اسی کے عشرے میں سوویت فوج کے لیے ڈرائیور کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ انہوں نے افغان پولیس کو بتایا کہ اس مقام پر سوویت فوجی قیدیوں سے پوچھ گچھ کرتے تھے اور پھانسیاں دیتے تھے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ الزامات کہاں تک صحیح ہیں۔ کمیشن کے لیے یہ ایک چیلنج ہے کہ ان ہلاکتوں کے لیے ذمہ دار افراد کا پتہ لگائے۔ اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر دو افغان اہلکاروں نے بتایا کہ کمیشن اپنی رپورٹ براہ راست صدر کرزئی کو دیدے گا۔
کابل پولیس میں کرائم برانچ کے سربراہ جنرل علی شاہ پکتیاوال نے بی بی سی کو بتایا: ’ہمیں ڈی این اے ٹیسٹ اور تحقیقات کے مکمل ہونے کا انتظار کرنا ہوگا۔ تبھی ہمیں معلوم ہوسکے گا کہ یہ ظلم کب ہوا۔‘ انہوں نے بتایا کہ اس مقام پر کاغذات اور کپڑے بھی ملے ہیں جو تحقیقات میں مدد کرینگے۔ مختلف حکومتوں کے تحت افغانوں کا نقصان ہوا ہے اور وہ اجتماعی قبروں کے لیے ذمہ دار بھی رہی ہیں۔ ماسکو کی حامی کمیونسٹ حکومت کے دور میں ہزاروں افراد غائب ہوگئے اور مجاھدین کی آپس کی لڑائی میں بھی ہزاروں لاپتہ ہوئے۔ طالبان کے تحت بھی افغانوں کی زندگی مشکل ثابت ہوئی۔ محمد ایشان بڑھئی کا کام کرتے ہیں۔ وہ ان لاکھوں افغانوں میں سے ہیں جن کے خواب اور زندگی کی امیدیں چکناچور ہوگئیں۔ محمد ایشان نے مغربی کابل میں اپنی دکان پر بی بی سی کو بتایا کہ جب ان کی عمر دس سال کی تھی تو کمیونسٹ حکومت ان کے والد کو لے گئی اور پھر انہیں نہیں دیکھا گیا۔ ’میرے والد جمعہ کی نماز ادا کرنے گئے۔انہیں کمیونسٹ پولیس لے گئی اور ان پر مجاھدین کی مدد کا الزام لگایا گیا۔‘
مغربی کابل کی اکتیس سالہ رہائشی مریم اتنی خوفزدہ ہیں کہ وہ اپنی تصویر بھی نہیں بنوانا چاہتیں۔ خانہ جنگی کے دوران ان کے بھائی کو ایک بس سے اغواء کرلیا گیا تھا۔ مریم کہتی ہیں کہ مجاھدین کا ’ایک گروپ انہیں ان کی نسلی شناخت کی بنیاد پر اٹھا لے گیا۔ آج تک ہمیں نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہیں یا ہلاک۔ ان کے بچے ابھی بھی پوچھتے ہیں کہ ابا آئیں گے یا نہیں۔‘ ’ہم سبھی جانتے ہیں کہ یہ قاتل کون تھے۔ ان کے جرائم کے لیے ان پر مقدمہ چلنا چاہیے۔ کمیونسٹوں پر بھی ان کے جرائم کے لیے مقدمہ چلنا چاہیے، اور انہیں حکومت یا پارلیمنٹ میں نہیں ہونا چاہیے۔‘ لاپتہ افراد کے رشتہ دار حال میں دریافت شدہ اجتماعی قبروں کی تحقیقاتی رپورٹ کے منتظر ہیں اور امید کر رہے ہیں کہ انہیں معلوم ہوسکے گا کہ کس حکومت نے ان افراد کو ہلاک کردیا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ تحقیقات کے بعد کیا کارروائی ہوسکتی ہے کیونکہ حال ہی میں پارلیمنٹ نے عام معافی کی ایک قرارداد کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت جنگی جرائم کے مرتکب افراد پر مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||