کیمیکل علی کے لیے سزائےموت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک عراقی عدالت نےسابق عراقی صدر صدام حسین کے عمزاد علی حسن المجید کو 1988 میں کردوں کے قتل عام کے جرم میں سزائے موت سنائی ہے۔ علی حسن المجید المعروف کیمیکل علی پر انفال مہم کے دوران زہریلی گیس کے استعمال سے قتلِ عام کرنے کا جرم ثابت ہوا ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں ایک لاکھ اسی ہزار کرد شہری ہلاک ہوئے تھے۔ان کے دو اور ساتھیوں کو بھی سزائے موت سنائی گئی ہے جبکہ دو کو قید کی سزا دی گئی اور ایک کو مناسب ثبوت نہ ملنے پر رہا کر دیا گیا۔ صدام حسین پرانفال کارروائی کے سلسلے میں بھی مقدمہ چلایا جا رہا تھا جب سنہ دوہزار چھ میں انہیں دوسرے جرائم کے لیے سزائے موت دی گئی۔ جج نے فیصلے میں کہا کہ شمالی عراق میں بعث پارٹی کے رہنما علی حسن المجید کو نسل کشی ، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کے لیے سزائے موت سنائی جاتی ہے۔ اسی طرح سابق وزیر دفاع سلطان ہاشم احمد کو جنگی جرائم اورانسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کے لیے سزائے موت سنائی گئی۔ سابق ریپبلکن گارڈ کے سربراہ حسین راشد التکریتی کو بھی انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کے لیے سزائے موت سنائی گئی۔ فوج کے سابق کمانڈر فرحان الجبوری اور انٹیلی جنس کے سابق سربراہ صابر عبدلعزیز کو بھی انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کے لیے عمر قید کی سزا دی گئی۔ جبکہ نینوا صوبے کے سابق گورنر طاہر محمد العانی کو ثبوت نہ ملنے کی وجہ سے ان الزامات سے بری کر دیا گیا۔ | اسی بارے میں ’ کیمیکل علی‘ پر عدالتی کارروائی15 December, 2004 | آس پاس صدام: عدالت جانے سےانکار 07 December, 2005 | آس پاس ’عراق کی تاریخ کا سیاہ دن‘22 February, 2006 | آس پاس ہم نہیں، وائٹ ہاؤس جھوٹا: صدام22 December, 2005 | آس پاس تشدد کا کوئی ثبوت نہیں: جج22 December, 2005 | آس پاس طارق عزیز شدید علیل ہیں: وکیل13 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||