BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 June, 2007, 00:18 GMT 05:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نہرالبارد کیمپ پر شدید گولہ باری
لبنان کے وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ شدت پسندوں سے بات چیت نہیں کی جائے گی
لبنان میں فوج نہرالبارد کے فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں موجود شدت پسندوں پرگولہ باری کر رہی ہے تاکہ انہیں پسپا ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔

فوج کا کہنا ہے کہ فتح الاسلام گروپ کے شدت پسندوں کو شدید لڑائی کے بعد فلسطینی کیمپ کے کناروں سے پرے دھکیل دیا گیا ہے۔

لبنانی وزیرِ اعظم نے شدت پسند گروپ کو ’دہشت گردوں کا ٹولہ‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

شدت پسندوں کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ خون کے آخری قطرے تک لڑتے رہیں گے۔

شمالی لبنان میں نہرالبارد کے فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں موجود شدت پسندوں کا کہنا ہے کہ وہ لبنانی فوج کے حملوں کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔

سنیچر کو شدید لڑائی کے بعد فتح الاسلام نامی گروپ کے ترجمان ابو سالم طٰہ نے کہا ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ابو سالم کا کہنا تھا’ ہم ہتھیار نہیں پھینکیں گے اور خون کے آخری قطرے تک مقابلہ کریں گے‘۔

اس سے قبل لبنانی وزیراعظم فواد سنیورا نے اسلامی شدت پسندوں کو ایک ’دہشت گرد گروہ‘ قرار دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر خبردار کیا تھا کہ یا تو وہ ہتھیار پھینک دیں یا پھر کُچلے جانے کی لیے تیار ہو جائیں۔

العربیہ ٹی وی کو ایک انٹرویو میں فواد سنیورا نے کہا کہ شدت پسندوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔ ان کا کہنا تھا’ یہ دہشتگردوں کا ایک گروہ ہے اور انہیں ہتھیار پھینک کر اپنے آپ کو حکام کے حوالے کرنا ہوگا‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر یہ شدت پسند ہتھیار ڈال دیں تو ان پر غیر جانبدارانہ طور پر مقدمہ چلایا جائے گا لیکن تب تک فوج اپنا آپریشن جاری رکھے گی۔

شمالی لبنان میں تیرہ دن سے جاری اس لڑائی میں سو سے زائد شہری، شدت پسند اور فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ سنیچر کو ہونے والی لڑائی میں بھی چار لبنانی فوجی ہلاک اور دس زخمی ہوئے۔ بیروت میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق لبنانی فوج کو اپنی حاکمیت ثابت کرنے کے لیے فتح الاسلام کا خاتمہ ہی کرنا ہو گا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق نہر البارد کیمپ کے رہائشی اکتیس ہزار پناہ گزینوں میں سے پچیس ہزار یہ کیمپ چھوڑ کر جا چکے ہیں اور امدادی اداروں نے مزید پناہ گزینوں کو نکالنے کے لیے جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

یاد رہے کہ لبنان میں بارہ فلسطینی پناہ گزین کیمپ ہیں جو کہ سنہ 1948 میں اسرائیل کی تشکیل کے بعد قائم کیے گئے تھے۔

لبنانجھڑپیں اور انخلاء
نہرالبارد کے پناہ گزین مشکلات کا شکار
حزب اللہ کا احتجاجبیروت: احتجاج جاری
لبنان میں حزب اللہ کا سیاسی معرکہ جاری
لبنانتعمیر نو کا چیلنج
چھ سو کلومیٹر لمبی سڑکیں اور 150 پُل تباہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد