BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 May, 2007, 13:01 GMT 18:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان: مظاہرین پر پولیس فائرنگ
دوستم
ازبک رہنما جنرل رشید دوستم سب سے متنازع رہنما ہیں
افغانستان کے صوبے جوزجان کے دارالحکومت شبرگان میں عینی شاہدین کے مطابق افغان پولیس نے پانچ مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

مظاہرین متنازع ازبک رہنما جنرل رشید دوستم کے حمایتی بتائے جاتے ہیں، جو صوبے کے گورنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔صورتِ حال میں کشیدگی کے بعد علاقے میں نیٹو کے فوجی دستوں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

ادھر ملک کے دیگر حصوں میں تشدد کے نتیجے میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ تشدد طالبان کی وجہ سے ہوا۔

اطلاعات کے مطابق جنرل دوستم کے لگ بھگ ایک ہزار طرف دار شبرگان میں سرکاری دفاتر کے باہر مظاہرہ کر رہے تھے۔ بعض اطلاعات کے مطابق انہوں نے پتھراؤ بھی کیا۔

جنرل دوستم اور صوبائی گورنر ہمدرد دونوں ماضی میں قریبی حلیف تھے لیکن کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حال ہی میں دونوں میں سیاسی اختلافات سامنے آئے ہیں اور اب وہ حریف ہیں۔

ماضی میں کابل میں بھی حکومت کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں

مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں پانچ افراد کی ہلاکت کے علاوہ پینتیس افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے جن میں سے دس افراد کی حالت تشویشناک ہے۔

جنرل دوستم افغان سیاست میں سب سے متنازع شخصیت ہیں۔ انیس سو اسی میں انہوں نے باغی مجاہدین کے مقابلے میں سویت یونین کی حملہ آور فوج کی حمایت کی تھی۔ بعد میں انہوں نے افغانستان کی خانہ جنگی میں نمایاں کردار ادا کیا۔

دو ہزار ایک میں جب ان کی ملیشیا امریکی فوج کی مدد کر رہی تھی، تو اس پر یہ الزام لگا کہ اس نے سینکڑوں طالبان قیدیوں کو جہاز رانی میں استعمال ہونے والے بڑے ڈبوں میں بند کر دیا جس کے باعث طالبان قیدی دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے۔

دریں اثناء افغان حکومت کے ترجمان نے بتایا ہے کہ طالبان شدت پسندوں نے جنوب مشرق میں واقع پکتیہ کے صوبے میں پولیس کے قافلے پر حملہ کیا جس میں چھ افسر مارے گئے۔ یہ حملہ بموں سے کیا گیا۔

یہ خبر بھی ہے کہ طالبان نے قندوز اور قندھار میں دو خود کش حملے کیے ہیں۔

سنہ دو ہزار چھ میں طالبان مزاحمت کے دوران چار ہزار کے قریب افراد مارے جا چکے ہیں۔اس ماہ کے اوائل میں طالبان کے اعلیٰ ترین رہنما ملا داداللہ کو ہلاک کر دیا گیا تھا اور نیٹو فوج کے کمانڈر نے کہا تھا کہ طالبان جوابی کارروائیاں کر سکتے ہیں جس کے لیے نیٹو افواج تیار ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد