ڈِیل نہ ہوئی تو فیصلہ ووٹ سے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی بینک کا چوبیس رکنی ایگزیکٹو بورڈ بینک کےصدر پال ولفووٹز کی قسمت کے بارے میں فیصلے سے متعلق بات چیت آج بھی جاری رکھے گا۔ پال ولفو وٹز پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی گرل فرینڈ کی تنخواہ میں اضافے کا پیکیج تیار کرکے بینک کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔ بدھ کو بینک کے بورڈ اور ولفووٹز کے وکیل کے درمیان بات چیت کے بعد، عالمی بینک کے صدر کے وکیل نے بتایا کہ ان کے مؤکل استعفیٰ نہیں دیں گے۔ بورڈ کے سامنے ایک بیان میں پال ولفو وٹز نے کہا کہ وہ اپنی دیانت داری اور ساکھ بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر بورڈ اور عالمی بینک کے صدر کے درمیان ڈیل نہیں ہوتی تو پھر ان کی قسمت کا فیصلہ ووٹنگ سے ہوگا۔ منگل کو انہوں نے کہا تھا کہ بینک کے اہلکاروں نے انہیں مفادات کے ٹکراؤ کے حوالے سے مبہم مشورہ دیا تھا۔ امریکہ ولفووٹز کا بہت حامی ہے لیکن یورپی ممالک چاہتے ہیں کہ ان کو عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ ورلڈ بینک کے صدر پال ولفووٹز گزشتہ روز اپنے خلاف الزامات کا جواب دینے کے لیے عالمی بینک کے چوبیس رکنی بورڈ کے سامنے پیش ہوئے اور کہا ہے کہ انہیں استعفے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ جو کچھ ہوا اس سے متعلق انکوائری سے بینک کو طویل المدت مسائل پیش آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مینیجمنیٹ کے انداز کو تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ عالمی بینک کے صدر کے ایک وکیل نے بتایا ہے کہ ولفووٹز نے بورڈ کے سامنے مضبوط کیس رکھا ہے اور انہیں ٹھیک انداز میں سنا گیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ نے کہا تھا کہ وہ ولفووٹز کی حمایت کرتا ہے لیکن یہ کہ اس کی نگاہ مسئلے کے ہر پہلو پر ہے۔ ولفووٹز کے وکیل کا کہنا تھا کہ انہوں نے بورڈ کے سامنے بڑے زور سے یہ بات رکھی ہے کہ ولفووٹز نے ہمیشہ نیک نیتی سے اور بینک کے مفاد کے لیے کام کیا ہے۔ پینل میں شامل ڈائریکٹرز کا کہنا تھا کہ عالمی بینک کے فل بورڈ کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ آیا مسٹر ولفووٹز اب بھی بینک کو مؤثر قیادت فراہم کرنے کے قابل رہے ہیں یا نہیں۔ بورڈ کے اجلاس سے قبل پینل کا کہنا تھا کہ مسٹر ولفووٹز کے ورلڈ بینک میں آنے سے ’مفادات کا تصادم‘ شروع ہو گیا تھا۔ پینل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وہ بینک کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں اور انہوں نے اپنے کنٹریکٹ میں بیان کی گئی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔ پینل نے بورڈ سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس امر کا بھی جائزہ لے کہ آیا مسٹر ورلفووٹز اپنے عہدے پر کام کرنے کے قابل رہے ہیں یا نہیں۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پینل نے مسٹر ولفووٹز کے بارے میں جس انداز میں رائے دی ہے اس سے حالات ورلڈ بینک کے سربراہ کے لیے کچھ سود مند نظر نہیں آ رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’گرل فرینڈ کی تنخواہ کا تنازع‘16 April, 2007 | آس پاس وولفووٹز کے معتمد خاص مستعفی08 May, 2007 | آس پاس دوست کی مدد کر کےغلطی کی:ولفووٹز13 April, 2007 | آس پاس پاؤل ولفووٹز کی مشکلات میں اضافہ14 April, 2007 | آس پاس ولفووٹز: یورپی یونین کی تشویش23 March, 2005 | آس پاس ’ثبوت کے بغیر بھی کارروائی کرنی چاہیے‘29.07.2003 | صفحۂ اول پال وولفووٹز کی صدارت کی توثیق 01 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||