پاؤل ولفووٹز کی مشکلات میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی حمایت کے باوجود ورلڈ بینک کےصدر پاؤل ولفووٹز کے مستبقل کے بارے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ورلڈ بینک کی سٹاف ایسوسی ایشن نے الزام لگایا ہے کہ پاؤل ولفووٹز نے اپنے اختیارت کا ناجائز فاہدہ اٹھاتے ہوئے اپنی خاتون دوست شاہا ریضا کی ترقی کروائی اور ان کی تنخواہ میں اضافہ کروایا۔ ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو بورڈ نے کہا ہے کہ اس نے شاہا ریضا کی تنخواہ میں اضافے کی منظوری نہیں دی تھی۔ایگزیکٹو بورڈ جمعہ کے روز اس پاؤل ولفووٹز کے معاملے پر غور کیا۔ بورڈ کا اجلاس اتوار کے روز پھر ہوگا۔ ورلڈ بینک ایگزیکٹو بورڈ نے کہا ہے کہ وہ پاؤل ولفووٹز کے معاملے کا جلد فیصلہ کرے گا۔ پاؤل ولفووٹزنے کہا ہے کہ وہ ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو بورڈ کے فیصلے کو تسلیم کریں گے۔ ادھر ولفووٹز کی دوست شاہا ریضا نے ایگزیکٹو بورڈ کو بتایا کہ وہ امریکی محکمہ خارجہ میں تعیناتی ان کی خواہش پر نہیں کی گئی بلکہ پاؤل ولفووٹز کے ساتھ ان کے تعلقات کی وجہ انہیں مجبور کیا گیا وہ وہاں کام کریں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ پاؤل ولفووٹز کو امریکی صدر جارج بش کی مکمل حمایت حاصل ہے اور امریکہ سمجھتا ہے کہ وہ دنیا سے غربت کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاؤل ولفووٹز ورلڈ بینک کا صدر بننے کے بعد کرپشن کے الزامات پر کئی افریقی ممالک کی امداد بند کر چکے ہیں۔ پاؤل ولفووٹز نے پہلے شاہا ریضا کی ترقی اور تنخواہ میں اضافے سے لاتعلقی ظاہر کی لیکن جمعرات کو تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے اپنی دوست کی مدد کر کے غلطی کی تھی جس پر انہیں افسوس ہے ۔ ورلڈ بینک کی سٹاف ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا ہے کہ پاؤل ولفوٹز نے ورلڈ بنیک کا صدر بننے کے بعد اپنی دوست شاہا ریضا کو امریکی وزارت خارجہ میں تعینات کروایا اور پھر تھوڑے ہی عرصے شاہا ریضا کی سالانہ آمدن ایک لاکھ بتیس ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ ترانوے ہزار تک جا پہنچی۔ پاؤل ولفووٹز کی دوست کی تنخواہ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا سے بھی زیادہ ہے جس پر ورلڈ بینک کے سٹاف نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ سابق امریکی نائب وزیر خارجہ پاؤل ولفووٹز کو جب دوہزار پانچ میں ورلڈ بینک کا صدر مقرر کیا گیا تو اس وقت شاہا ریضا ورلڈ بینک میں آٹھ سال سے کام کر رہی تھیں۔ پال ولفووٹز کا تنازعہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے اجلاس شروع ہونے والے ہیں۔ | اسی بارے میں عالمی بینک کےلئے بش کے امیدوار17 March, 2005 | آس پاس ولفووٹز: یورپی یونین کی تشویش23 March, 2005 | آس پاس بش کےسپاہی18 March, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||