’گرل فرینڈ کی تنخواہ کا تنازع‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ اور فنانس منسٹرز کے ایک اہم گروپ کا کہنا ہے کہ عالمی بینک کے صدر پاؤل ولفووٹز کا منظرعام پر آنے والا حالیہ سکینڈل انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ وزراء کا یہ گروپ واشنگٹن میں ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پاؤل ولفووٹز کے اپنے اختیارت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے خاتون دوست شاہا ریضا کی ترقی کروانے اور ان کی تنخواہ میں اضافہ کے مسئلے پر بات کر رہا تھا۔ گروپ کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ لوگوں کا بینک کے اوپر اعتماد قائم رہے اور بینک کو نہ صرف اپنی بلکہ اپنےعملے کی خواہشات اور عزت ہر حال میں ملحوظِ خاطر رکھنی چاہیے۔ واضح رہے کہ ورلڈ بینک کی سٹاف ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا تھا کہ پاؤل ولفووٹز نے ورلڈ بینک کا صدر بننے کے بعد اپنی دوست شاہا ریضا کو امریکی وزارت خارجہ میں تعینات کروایا اور پھر تھوڑے ہی عرصے بعد شاہا ریضا کی سالانہ آمدن ایک لاکھ بتیس ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ ترانوے ہزار تک جا پہنچی۔ سٹاف ایسوسی ایشن نے پاؤل ولفووٹز سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ بعد ازاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاؤل ولفووٹز کا کہنا تھا کہ وہ بدستور اپنے عہدے پر کام کرتے رہنا چاہتے ہیں۔ بینک کے بورڈ آف گورنرز کے ایک اجلاس میں پاؤل ولفووٹز کی قسمت کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ معاشی امور پر بی بی سی کے تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ پاؤل ولفووٹز کو امریکی حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے جبکہ دیگر حکومتیں ان کے معاملے میں اتنی پر جوش نہیں ہیں۔ اس سے قبل ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو بورڈ نے کہا تھا کہ اس نے شاہا ریضا کی تنخواہ میں اضافے کی منظوری نہیں دی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ پاؤل ولفووٹز کے معاملے کا جلد فیصلہ کرے گا۔ پاؤل ولفووٹز کا کہنا تھا کہ وہ ایگزیکٹو بورڈ کے فیصلے کو تسلیم کریں گے۔ اس معاملے میں ولفووٹز کی دوست شاہا ریضا نے ایگزیکٹو بورڈ کو بتایا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ میں تعیناتی ان کی خواہش پر نہیں کی گئی تھی بلکہ پاؤل ولفووٹز کے ساتھ ان کے تعلقات کی وجہ سے انہیں مجبور کیا گیا وہ وہاں کام کریں۔ پاؤل ولفووٹز، بینک کا صدر بننے کے بعد کرپشن کے الزامات پر کئی افریقی ممالک کی امداد بند کر چکے ہیں۔ سابق امریکی نائب وزیر خارجہ پاؤل ولفووٹز کو جب دوہزار پانچ میں ورلڈ بینک کا صدر مقرر کیا گیا تو اس وقت شاہا ریضا ورلڈ بینک میں آٹھ سال سے کام کر رہی تھیں۔ پال ولفووٹز کا تنازعہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے اجلاس شروع ہونے والے ہیں۔ |
اسی بارے میں دوست کی مدد کر کےغلطی کی:ولفووٹز13 April, 2007 | آس پاس پاؤل ولفووٹز کی مشکلات میں اضافہ14 April, 2007 | آس پاس عالمی بینک کےلئے بش کے امیدوار17 March, 2005 | آس پاس ولفووٹز: یورپی یونین کی تشویش23 March, 2005 | آس پاس بش کےسپاہی18 March, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||