’ولفووٹز نے بینک کا قانون توڑا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی بینک کے پینل آف ایگزیکٹوز کا کہنا ہے کہ بینک کے صدر پال ولفووٹز نے اپنی گرل فرینڈ کی تنخواہ میں اضافے کے حوالے سے بینک کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔ پینل میں شامل ڈائریکٹرز کا کہنا تھا کہ عالمی بینک کے فل بورڈ کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ آیا مسٹر ولفووٹز اب بھی بینک کو مؤثر قیادت فراہم کرنے کے قابل رہے ہیں یا نہیں۔ پال ولفووٹز منگل کو واشنگٹن میں چوبیس رکنی فل بورڈ کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔ فل بورڈ کو مسٹر ولفووٹز کو معطل کرنے، انہیں تنبیہ کرنے اور ان کی قیادت پر عدم اعتماد کے اظہار کے اختیارات حاصل ہیں۔ بورڈ کے اجلاس سے قبل پینل کا کہنا تھا کہ مسٹر ولفووٹز کے ورلڈ بینک میں آنے سے ’مفادات کا تصادم‘ شروع ہو گیا تھا۔ پینل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وہ بینک کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں اور انہوں نے اپنے کنٹریکٹ میں بیان کی گئی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔ پینل نے بورڈ سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس امر کا بھی جائزہ لے کہ آیا مسٹر ورلفووٹز اپنے عہدے پر کام کرنے کے قابل رہے ہیں یا نہیں۔ امریکی محکمۂ خزانہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ پینل کی رپورٹ مسٹر ولفووٹز کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پینل نے مسٹر ولفووٹز کے بارے میں جس انداز میں رائے دی ہے اس سے حالات ورلڈ بینک کے سربراہ کے لیے کچھ سود مند نظر نہیں آ رہے ہیں۔
مسٹر ولفووٹز اور ان کی گرل فرینڈ کی تنخواہ میں اضافے کا تنازع منظر عام پر آنے کے بعد سے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پال ولفووٹز نے دو ہزار پانچ میں ورلڈ بینک کا صدر بننے کے بعد اپنی دوست شاہا ریضا کو امریکی وزارتِ خارجہ میں تعینات کروایا اور پھر تھوڑے ہی عرصے بعد شاہا ریضا کی سالانہ آمدن ایک لاکھ بتیس ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ ترانوے ہزار تک جا پہنچی۔ اس سے قبل ولفووٹز کی دوست شاہا ریضا نے ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو بورڈ کو بتایا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ میں تعیناتی ان کی خواہش پر نہیں کی گئی تھی بلکہ پال ولفووٹز کے ساتھ ان کے تعلقات کی وجہ سے انہیں مجبور کیا گیا وہ وہاں کام کریں۔ اس تنازع کے منظر عام پر آنے کے بعد سے ورلڈ بینک شاہا ریضا کی تنخواہ میں اضافے کے معاملے میں مسٹر ولفووٹز کی شمولیت کے حوالے سے چھان بین کر رہا ہے۔ پال ولفووٹز کو امریکی صدر اور نائب صدر سمیت بش انتظامیہ کے سینئر اراکین کی پش پناہی حاصل ہے۔ تاہم پال ولفووٹز ورلڈ بینک کے بورڈ میں انتہائی اہم پوزیشن رکھنے والے یورپی ممالک میں زیادہ مقبول نہیں۔ پال ولفووٹز، بینک کا صدر بننے کے بعد بد عنوانی کے الزامات پر کئی افریقی ممالک کی امداد بند کر چکے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’گرل فرینڈ کی تنخواہ کا تنازع‘16 April, 2007 | آس پاس وولفووٹز کے معتمد خاص مستعفی08 May, 2007 | آس پاس دوست کی مدد کر کےغلطی کی:ولفووٹز13 April, 2007 | آس پاس پاؤل ولفووٹز کی مشکلات میں اضافہ14 April, 2007 | آس پاس ولفووٹز: یورپی یونین کی تشویش23 March, 2005 | آس پاس ’ثبوت کے بغیر بھی کارروائی کرنی چاہیے‘29.07.2003 | صفحۂ اول پال وولفووٹز کی صدارت کی توثیق 01 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||