ترکی صدارتی انتخابات پھر ناکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی میں بر سرِ اقتدار جماعت کے نامزد امیدوار عبداللہ گل پارلیمنٹ سے منتخب ہونے میں ایک بار پھر ناکام ہو گئے ہیں۔ وزیر خارجہ عبداللہ گل واحد صدارتی امیدوار ہیں لیکن ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے ایک تہائی ووٹ حاصل کریں۔ اس سے قبل بھی عبداللہ گل سیکولر جماعتوں کی طرف سے انتخابات کے بائیکاٹ کی وجہ سے مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ برسرِاقتدار اے کے پارٹی اب قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کرانے پر توجہ دے گی۔ یہ انتخابات جولائی میں ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ برسرِ اقتدار جماعت اس بات کی بھی کوشش کر رہی ہے کہ صدر کو پارلیمنٹ کی بجائے لوگ براہِ راست منتخب کریں۔ گزشتہ جمعہ کو پہلی بارہونے والے صدارتی انتخاب کے موقع پر صدارتی انتخاب کے لیے درکار پارلیمنٹ کا کورم پورا نہیں تھا جس کے بعد آئینی عدالت نے ان انتحابات کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ ان انتخاب کے بعد صدارتی امیدوار اور وزیراعظم طیب اردگان نے کہا تھا کہ صدارتی انتخاب کو کالعدم قرار دیا جانا ’جمہوریت کو گولی مارنے کے مترادف ہے‘۔ اپوزیشن جماعتیں صدارتی امیدوار وزیر خارجہ عبداللہ گل پر مخفی مذہبی ایجنڈا رکھنے کا الزام لگاتی ہیں۔ وزیراعظم نے 22 جولائی کو انتخابات کرانے اور انتخابی اصلاحات کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں صدر کو سات سال کی بجائے پانچ سال کی دو مدتوں کے لیے منتخب کیا جائے اور اسے پارلیمنٹ کی بجائے عام لوگ منتخب کریں۔ عبداللہ گل اور اردگان دونوں کا تعلق حکمران جماعت سے ہے۔ ان کا پس منظر مذہبی ہے انہیں پارلیمان میں اکثریت حاصل ہے۔ | اسی بارے میں ترکی سائپرس کو راستہ دینے پر تیار08 December, 2006 | آس پاس آرمینیائی صحافی کے قتل کی مذمت20 January, 2007 | آس پاس شاہراہ ریشم کی ایک اور کڑی08 February, 2007 | آس پاس مذہب اور سیاست علیحدہ علیحدہ15 April, 2007 | آس پاس ترکی: انتخابات، فوج کی وارننگ28 April, 2007 | آس پاس ترکی: سیکولرازم کے حق میں جلوس29 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||