BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 January, 2007, 05:17 GMT 10:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آرمینیائی صحافی کے قتل کی مذمت
ہرانت دِنک کے قتل پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے
آرمینیا کی حکومت نے ترکی کے شہر استنبول میں ایک آرمینیائی نژاد ترک صحافی کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ استنبول میں بھی ہزاروں لوگوں نے صحافی ہرانت دِنک کے قتل پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

آرمینیا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ صحافی ہرانت دِنک کے قتل سے واضح ہوگیا ہے کہ ترکی یورپی یونین میں شامل ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہرانت دِنک کو جمعہ کے روز ان کے دفتر کے سامنے گولی مارکر ہلاک کردیا گیا۔

ہرانت دِنک نے 1915 میں سلطنت عثمانیہ کے زوال کے اواخر میں آرمینیائی لوگوں کے قتل عام کے بارے میں کافی کچھ لکھا تھا۔ آرمینیا کے صدر روبرٹ کوچریان نے کہا کہ ہرانت دِنک کے قتل سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں اور ان کے قتل کی مذمت کی جانی چاہیے۔

آرمینیا کی پارلیمان کے اسپیکر ٹِگران ٹوروسیان نے یہاں تک کہہ دیا کہ اس قتل کے بعد ترکی کو یورپی یونین میں شامل ہونے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیے۔

ہرانت دِنک کے قتل پر ترکی میں صحافیوں اور سیاست دانوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ کئی اہم شخصیتوں نے اس قتل کو سیاسی قتل قرار دیا ہے۔ امریکہ، یورپی یونین، فرانس اور حقوق انسانی کی کئی تنظیموں نے بھی اس قتل کی شدید مذمت کی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہرانت دِنک پر جمعہ کو دو بار گولیاں چلائی گئیں۔ ترکی میں ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ اس قتل کے سلسلے میں تین افراد گرفتار کرلیے گئے ہیں۔

اکتوبر 2005 میں ہرانت دِنک کو ترک شناخت کی بےعزتی کرنے کا مجرم پایا گیا تھا کیوں کہ انہوں نے ایک مضمون لکھا تھا جس میں نو عشرے قبل آرمینیائی لوگوں کے قتل عام کے بارے میں کچھ کہنے کی کوشش کی گئی تھی۔

سلطنت عثمانیہ کے آخری دنوں میں آرمینیائی لوگوں کے قتل کے بارے کچھ لکھنا یا کہنا ترکی میں ایک حساس موضوع سمجھا جاتا ہے اور اس کے بارے میں لکھنے پر قانونی پابندیاں عائد ہیں۔

کئی آرمینیائی لوگ عالمی پیمانے پر اس ’قتل عام‘ کے اقرار کے لیے مہم چلارہے ہیں۔ ترکی نے کسی بھی قتل عام سے انکار کیا ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں پہلی جنگ عظیم کا حصہ تھیں۔

اسی بارے میں
قومی تضحیک: سماعت رُک گئی
16 December, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد