مصر: امریکہ اور شام کے رابطے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر میں شرم الشیخ کے تفریحی مقام پر امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے شام کے وزیر خارجہ ولید معلم سے ملاقات کی ہے۔ گزشتہ دو برس میں یہ پہلا موقع ہے کہ عراق کی صورت حال پر غور کرنے کے لیے امریکہ اور شام کے اعلیٰ سرکاری عہدے داروں نے بات چیت کی ہے۔ یہ ملاقات اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ 2005 میں لبنان کے وزيرِاعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد پہلی بار شام اور امریکہ کے نمائندے اکٹھے ہوئے ہیں۔ شام کے اہلکاروں پر رفیق حریری کی موت میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا جس کی شام نے تردید کی تھی۔ اس کے علاوہ امریکہ نے شام کو عراق میں حالات خراب کرنے کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا تھا لیکن حال میں امریکہ نے کہا ہے کہ شام کے رویے میں تبدیلی آ رہی ہے۔ کونڈالیزا رائس اور ولید معلم کی ملاقات مصر میں عراق کے حالات بہتر بنانے کے لیے بلائی گئی کانفرنس کے موقع پر ہوئی ہے۔اس قسم کے بھی امکانات ہیں کہ امریکی وزیر خارجہ اپنے ایرانی ہم منصب منوچہر متقی سے بھی ملاقات کریں گی۔ اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو یہ 27 سال میں دونوں ممالک کے اعلی عہدیداروں کے درمیان پہلے باقاعدہ مذاکرات ہوں گے۔ امریکہ نے 1980 میں ایران کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کر دیے تھے۔ | اسی بارے میں ایران سے مذاکرات ناممکن نہیں: رائس30 April, 2007 | آس پاس ’اچھا آغاز مگر بات ختم نہیں ہوئی‘13 February, 2007 | آس پاس کونڈولیزا رائس، اولمرت ملاقات15 January, 2007 | آس پاس ’پاکستان اپنے قبائلی علاقوں پر کنٹرول بڑھائے‘13 January, 2007 | آس پاس رائس: صدر عباس کی حمایت05 October, 2006 | آس پاس امریکی وزیر خارجہ کی اسرائیل واپسی30 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||