BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 April, 2007, 10:41 GMT 15:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مزاحمت کاروں کو غلط پیغام ملے گا‘
عراق میں امریکی افواج
قرارداد کے مطابق بتدریج انخلاء کا آغاز اس برس اکتوبر میں کیا جائے
عراقی حکومت نے امریکی ایوانِ نمائندگان کے طرف سے عراق سے فوجوں کے انخلاء کی تاریخ متعین کرنے سے متعلق بل منظور کیے جانے پر تنقید کی ہے۔

عراقی حکومت کے مرکزی ترجمان علی الدباغ نے کہا کہ اس بل کا منظور ہونا ایک منفی بات ہے اور اس سے مزاحمت کاروں کو غلط پیغام پہنچے گا۔

سرکاری ترجمان کے برعکس مقتدہ الصدر کے حامی سیاسی اتحاد کے رہنما کا کہنا تھا کہ میں فوجوں کے انخلاء کے بل کی منظوری دراصل عراق میں امریکی شکست کا اقرار ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو امریکی ایوانِ نمائندگان نے سادہ اکثریت سے عراق سے امریکی افواج کی واپسی کا وقت معین کرنے کا بل منظور کر لیا۔

اس قانون کے مطابق عراق میں امریکی فوج کے لیے سو بلین ڈالر کے مزید فنڈز صرف اسی صورت میں مہیا کیے جائیں گے کہ اگر اس برس اکتوبر میں عراق سے امریکی فوج کا بتدریج انخلاء شروع کیا جائے اور یہ عمل مارچ دو ہزار آٹھ میں تک کر لیا جائے۔

بل کے حق میں دو سو اٹھارہ جبکہ مخالفت میں دو سو آٹھ ممبران نے ووٹ دیا۔ اب یہ بل منظوری کے امریکی کانگریس میں پیش کیا جائےگا تاہم امریکی صدر پہلے ہی اس قرارداد کو ویٹو کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بل کی منظوری پر کہا ہے کہ’ایوانِ نمائندگان نے عراق میں جاری کارروائی کو ناکام کرنے کے لیے ووٹ دیا ہے اور صدر اس بل کو ویٹو کر دیں گے‘۔

قانون کی منظوری کے موقع پر ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی نے کہا’ ہمارے فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کی قربانیاں اس بلینک چیک سے کہیں زیادہ کا تقاضا کرتی ہیں جو صدر بش ایک ایسی جنگ کے لیے مانگ رہے ہیں جس کا اختتام ہوتا نظر نہیں آتا‘۔

ہمارے فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کی قربانیاں اس بلینک چیک سے کہیں زیادہ کا تقاضا کرتی ہیں جو صدر بش ایک ایسی جنگ کے لیے مانگ رہے ہیں جس کا اختتام ہوتا نظر نہیں آتا‘۔
نینسی پلوسی

انہوں نے امریکی صدر پر زور دیا کہ وہ اس بل پر دستخط کر دیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے پر زیادہ توجہ دی جا سکے جو کہ امریکی عوام کے لیے زیادہ بڑا خطرہ ہے۔

اگرچہ ڈیموکریٹس امریکہ میں دونوں ایوانوں میں اکثریت رکھتے ہیں تاہم یہ اکثریت صدارتی ویٹو کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے اور اگر صدر بش نے اس بل کو ویٹو کر دیا تو متوقع طور پر اس موسمِ گرما تک فنڈز کی فراہم کے لیے عارضی انتظامات کے بارے میں قرارداد پیش کی جائے گی۔

ادھر عراق کے وزیرِ خارجہ نے بھی امریکی فوج کے انخلاء کے ٹائم ٹیبل کے اس قانون پر تنقید کی ہے۔ ایران کے دورے پر گئے ہوئے عراقی وزیرِ خارجہ ہوشیار زیباری نے کہا کہ کانگریس کی جانب سے اکتوبر میں امریکی فوج کی واپسی کے آغاز کی تاریخ طے کرنا عراق میں جاری سیاسی عمل اور سکیورٹی کے حوالے سے سود مند ثابت نہیں ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج کو اس وقت تک عراق سے نہیں جانا چاہیے جب تک عراقی افواج اپنے آپ پر مکمل انحصار کرنے کے قابل نہیں ہو جاتیں۔

اسی بارے میں
امریکہ کی جیت یا تنہائی ؟
22 February, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد