BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 March, 2007, 05:22 GMT 10:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فورٹ جیکسن میں ’عراق‘

فوج
فوج میں شامل ہونے والے ہر فوجی کو ایم ۔ سولہ رائفل چلانے میں مہارت سکھائی جاتی ہے
جنوبی کیرولائنا میں واقع فورٹ جیکسن امریکہ میں ابتدائی فوجی تربیت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کے لیے مختلف قسم کی ترغیبات دے کر امریکہ بھر کے دیہاتوں اور قصبوں سے یہاں بنیادی تربیت کے لیے لایا جاتا ہے۔ فورٹ جیکسن کی نو ہفتوں کی ٹریننگ کے دوران انہیں ایک عام سویلین سے فوجی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

زیرِ تربیت فوجیوں سے ملاقات کرنے اور ان کی ٹریننگ دیکھنے صبح چھ بجے فورٹ جیکسن پہنچے تو اس وقت وہاں سٹیڈیم نما میدان میں قطاروں میں کھڑے نوجوانوں کی جسمانی فٹنس کا امتحان جاری تھا۔ ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا اور گھُپ اندھیرا تھا۔ سامنے ٹریک سوٹ پہنے فوج میں بھرتی کے خواہشمند نوجوانوں کا ٹھنڈ سے بُرا حال نظر آ رہا تھا۔

قطاروں میں لڑکیاں اور لڑکے شانہ بشانہ نظر آئے۔ ان کے بھولے بھالے چہروں پر معصومیت عیاں تھی۔ ان میں اکثر کے نرم و نازک ہاتھوں نے کبھی بندوق کو ہاتھ تک نہیں لگایا ہوگا۔ لیکن اب انہیں عراق اور افغانستان میں امریکہ کے خونی محاذوں کے لیے تیار کیا جارہا تھا۔

 قطاروں میں لڑکیاں اور لڑکے شانہ بشانہ نظر آئے۔ ان کے بھولے بھالے چہروں پر معصومیت عیاں تھی۔ ان میں اکثر کے نرم و نازک ہاتھوں نے کبھی بندوق کو ہاتھ تک نہیں لگایا ہوگا

جسمانی فٹنس کے امتحان کے بعد دوپہر کو تربیتی فائرنگ رینج دکھائی گئی، جہاں زیرِ تربیت فوجیوں کے ہتھیار چلانے کی صلاحیت کا امتحان لیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ امریکی فوج میں شامل ہونے والے ہر فوجی کو ایم ۔ سولہ رائفل چلانے میں مہارت سکھائی جاتی ہے۔ ایم ۔ سولہ رائفل امریکی فوج کا بنیادی اور مقبول ترین ہتھیار ہے۔

فائرنگ رینج کے بعد اس وسیع فوجی تربیتی مرکز میں قائم ایک فرضی عراقی گاؤں لے جایا جایا گیا، جہاں ان نئے فوجیوں کو عراق کے زمینی حالات کا مزہ چکھایا جاتا ہے۔

فرضی عراقی گاؤں میں کچھ زیرِ تربیت امریکی فوجی ہی عراقیوں کا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے عراقیوں والے لباس پہنے ہوئے ہوتے ہیں اور ویسا ہی حلیہ اپنایا ہوا ہوتا ہے۔ یہاں انہیں ایسے حالات کے لیے تیار کیا جاتا ہے کہ اُن پر حملہ کبھی بھی، کہیں سے بھی، ہوسکتا ہے۔

ایسے حالات میں فوجیوں کو کس طرح تیزی سے خود کو اور اپنے ساتھیوں کو بچانا ہوگا اور دشمن کو پسپا کرنا ہوگا، فرضی عراقی گاؤں میں اصلی گولیاں چلا کر انہیں اسی کی مشق کرائی جاتی ہے۔

لیکن وہ کیا وجوہات ہیں جو ان لڑکے لڑکیاں کو فوج میں اپنی زندگیاں داؤ پر لگانے کی طرف کھینچ لاتی ہیں؟ بعض زیرِ تربیت فوجیوں سے گپ شپ ہوئی تو معاشی تنگی اس کی بڑی وجہ ابھر کر سامنے آئی۔

لیسا جورڈن کا تعلق ریاست جورجیا کے ایک چھوٹے سے قصبے سے ہے۔ ان کے والدین دونوں ٹرک ڈرائیور تھے۔ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے کالج جانا چاہتی تھی۔ جب اس نے ہائی اسکول پاس کیا تو والدین میں طلاق ہو گئی۔ پییسہ نہ ہونے کی وجہ سے اسے فوج کا رخ کرنا پڑا۔

 فرضی عراقی گاؤں میں کچھ زیرِ تربیت امریکی فوجی ہی عراقیوں کا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے عراقیوں والے لباس پہنے ہوئے ہوتے ہیں

لیکن آج لیسا کو کالج کی بجائے فوج میں داخلے کے اپنے فیصلے پر کوئی افسوس نہیں۔ وہ کہتی ہے کہ فوج کی تربیت نے اس میں خود اعتمادی پیدا کی ہے۔ فوجی سروس کے عوض اسے بارہ ہزار ڈالر کا جو بونس ملے گا وہ اسے کسی حد تک معاشی طور پر خود کفیل کر دے گا۔ وہ صدر بش کے فوجی مشن میں پورا یقین رکھتی ہے اور اگر اسے عراق یا افغانستان بھیجا گیا تو وہ اس کے لیے تیار ہے۔

لیکن یہاں معاشی تنگی ہی نوجوانوں کی فوج میں بھرتی کی وجہ نہیں۔ کافی نوجوان حب الوطنی کے جذبے کے تحت بھی فوج کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے فوری بعد اس قسم کے رجحان میں خاصا اضافہ نظر آیا۔

پرائیوٹ مارکس ہینی کا تعلق یہاں سے ہزاروں میل دور امریکی ریاست اوریگن کے ایک فوجی خاندان سے ہے۔اس کی بہن حال ہی میں عراق سے لوٹی ہے۔ ان سے پوچھا کہ وہاں اس وقت امریکی فوج کا مشن کیا ہے؟

کافی نوجوان حب الوطنی کے جذبے کے تحت بھی فوج کا حصہ بننا چاہتے ہیں

زیرِ تربیت نوجوان پہلے تو کچھ سوچ میں پڑ گیا پھر جیسے اسے کوئی بھولا ہوا سبق یاد آگیا، جھٹ سے کہا: ’ہمارا کام عراقیوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں مدد کرنا ہے۔ ان کو ترقی اور بہتر زندگی دلانا ہے۔‘

لیکن عراقیوں کی بڑی تعداد تو امریکیوں کو قابض فوج کے طور پہ دیکھتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ امریکہ نے ہمارا ملک تباہ کرکے رکھ دیا؟

نوجوان نے پورے وثوق سے کہا ’ہمارا مقصد عراق میں ان لوگوں کو ناراض کرنا یا ان کا طرزِ زندگی تباہ کرنا نہیں بلکہ ہم تو ان کی مدد کرنے کے لیے کچھ ہی عرصے کے لیے وہاں موجود ہیں۔ عراق ہمارا ملک نہیں اور ہمیں آخرکار تو وہاں سے نکلنا ہی ہے۔‘

یہ واضع ہے کہ نوعمر لڑکے لڑکیوں کی اس تربیت کے دوران جتنی توجہ ان کی جسمانی فٹنس اور ہتھیار چلانے کی صلاحیت پہ دی جاتی ہے اتنی ہی ان کو نظریاتی طور پر امریکی فوج کے مشن کے بارے میں قائل کرنے پر دی جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کمانڈر ان چیف جارج بش کے پیادوں کی ہر نئی کھیپ افغانستان اور عراق میں فوج کے مشن کو امریکی دفاع کے مشن کے طور پر دیکھتی ہے اور جارج بش کے اسی ’مشن‘ کی خاطر یہ نوعمر لڑکے لڑکیاں اپنی جانیں داؤ پر لگانے کے لیے تیار کئے جارہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد