 | | | صدر احمدی نژاد خود اقوام متحدہ جانا چاہتے تھے |
ایرانی صدر احمدی نژاد نے سنیچر کے روز اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں شرکت کرنے کا اپنا منصوبہ ترک کردیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ صدر احمدی نژاد نے نیویارک جانے کا منصوبہ اس لیے ترک کردیا کیوں کہ امریکہ نے انہیں ویزہ دینے میں تاخیر کردی۔ امریکہ نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں ایرانی صدر احمدی نژاد کا جانا ضروری نہیں ہے لیکن انہوں نے خود ہی اجلاس کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ سفارتی حلقوں میں امید کی جارہی ہے کہ سنیچر کے روز نیو یارک میں ہونے والے اس اجلاس میں ایران پر مزید پابندیاں عائد کردی جائیں گیں۔  | قرارداد کے الفاظ پر اختلافات  برطانیہ اور فرانس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سکیورٹی کونسل کے تمام اراکین ایران پر پابندیوں کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیں گے۔ نیویارک میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ قرارداد کے الفاظ پر جنوبی افریقہ، قطر اور انڈونیشیا کے اختلافات کو نمٹا لیا گیا ہے۔  |
برطانیہ اور فرانس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سکیورٹی کونسل کے تمام اراکین ایران پر پابندیوں کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیں گے۔ نیویارک میں بی بی سی کی نامہ نگار لورا ٹریویلین کا کہنا ہے کہ قرارداد کے الفاظ پر جنوبی افریقہ، قطر اور انڈونیشیا کے اختلافات کو نمٹا لیا گیا ہے۔امید کی جارہی ہے کہ قرارداد کے ذریعے ایران کو اسلحے کی فروخت پر پابندی عائد کردی جائے گی اور حکومتوں سے کہا جائے گا کہ وہ ایران کو نیا لون نہ دیں۔ قرارداد کے تحت ایران کے ایٹمی پروگرام میں شامل سائنسدانوں اور اہلکاروں کے سفر کرنے پر بھی پابندی عائد کی جائے گی اور ایران کے انقلابی گارڈز کے اثاثے منجمد کردیے جائیں گے۔ بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر ایران یورینیم کی افزودگی بند کردیتا ہے تو یہ پابندیاں اٹھالینے کی تجویز بھی ہے۔ ایران کہتا رہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے جبکہ مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران نیوکلیئر بم بنانے کی دوڑ میں ہے۔
|