حماس انورالسادات کے کارواں میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ میں اسامہ بن لادن کے اوّل نائب خیال کیے جانے والے ایمن الظواہری نے حماس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ہتھیار پھینک دیے ہیں۔ خلیجی ممالک کے ٹیلی وژن چینل سے نشر کیے جانے والے ایک پیغام ایمن الظواہری نے کہا ہے کہ حماس نے مکہ اعلامیہ کے جن معاہدوں پر اتفاق کیا ہے وہ ہتھیار پھینکنے کے مترادف ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’اب اس معاہدے کے ذریعے حماس فلسطینیوں کے زیادے سے زیادہ علاقے یہودیوں کے حوالے کرنے پر راضی ہو گئی ہے۔ حماس کی قیادت اب ذلت کے اس کارواں میں شامل ہو گئی جس کی ابتدا مصر کے انورالسادات نے کی تھی۔ حماس نے فلسطین کاز کو فروخت کر دیا ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بدلے حماس کو کیا ملے گا، حکومت میں ایک تہائی طاقت۔ ایمن الظواہری کا کہنا ہے کہ حماس جس طرح کی جدوجہد کر رہی تھی وہ اب اس سے پیچھے ہٹتی چلی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے ’بدقسمتی سے فلسطین میں ایک مختلف قسم کی جارحیت جاری ہے، حماس نے اپنی حدوں سے تجاوز کیا ہے اور اس طرح اس نے مسلمانوں کے جذبات و احساسات کا مذاق اڑاتے ہوئے فلسطین سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کو تسلیم کر لیا ہے‘۔ ایک آڈیو ٹیپ کے ذریعے ملنے والے پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ ’حقیقت کے اس انکشاف پر میں مسلمانوں سے اظہارِ افسوس ہی کر سکتا ہوں اور میں ان سے تعزیت کرتا ہوں کے حماس کی قیادت ذلت کی دلدل میں دھنس گئی ہے‘۔ اگرچہ اب تک مسلسل اصرار کرتی چلی آئی ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گی لیکن مبصرین کے مطابق حماس نے مکہ میں جن معاہدوں پر دستخط کیے ہیں ان میں بین السطور یہ بات موجود ہے کہ وہ اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم کرتی ہے۔ ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ مذکورہ بالا بیان جسے ایمن الظواہری کا قرار دیا جا رہا ہے ایمن الظواہری ہی کا ہے یا نہیں۔ | اسی بارے میں حماس اور الفتح میں لڑائی پھر شروع 11 March, 2007 | آس پاس کہانیوں کا مجموعہ، حماس کی پابندی10 March, 2007 | آس پاس روس کا حماس کی قیادت سے وعدہ28 February, 2007 | آس پاس الفتح، حماس متحدہ حکومت پر متفق 08 February, 2007 | آس پاس حماس اور فتح کے درمیان جنگ بندی30 January, 2007 | آس پاس حماس اپنی ملیشیا فوج میں ضم کرے06 January, 2007 | آس پاس حماس کا فتح پر الزام15 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||