بغداد خود کش حملہ،26 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی دارالحکومت بغداد کے مصروف کاروباری علاقے میں ایک خود کش بمبار نے 26 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ بم حملے کے نتیجے میں ہونے والے دھماکے سے آس پاس کے علاقوں میں دور تک افرا تفری مچ گئی۔ یہ دھماکے المتنبی سٹریٹ کے اس حصے میں ہوا جہاں زیادہ تر کتابوں کی دکانیں ہیں اور کتابوں کے کھلے سٹال بھی لگائے جاتے ہیں۔ چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ دھماکے سے کئی دکانوں کو آگ لگ گئی اور انہوں نے ایک درجن سے زائد کاروں کو بھی جلتے ہوئے دیکھا۔ عراقی حکومت اور امریکی افواج پچھلے تین ہفتوں سے تشدد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایک بڑا آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نگراں چوکیوں کی تعداد میں اضافے اور سڑکوں پر فوجیوں کی تعداد بڑھنے سے ہلاکت خیز دستوں کی تعداد کم ہوئی ہے لیکن امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ کار بموں کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ جیسے ہی بم دھماکہ ہوا اس کے بعد علاقے سے سیاہ دھویں کے بھاری مرغولے اٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔ اس بازار کا نام عربی کے مشہور شاعر المتنبی کے نام پر رکھا گیا ہے اور اس بازار میں شیعہ اور سنی دونوں ہی کی دکانیں ہیں اور دونوں کے مشترکہ خریدار ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹر نے ایک چشم دید گواہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ اس گواہ کا کہنا ہے کہ دھماکے سے زخمی ہونے والوں کو وہاں موجود لوگوں نے اپنی گاڑیوں میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا اور ایمبولنسوں کے آنے کا انتظار نہیں کیا۔ | اسی بارے میں بغداد میں فوجی آپریشن اور دھماکے05 February, 2007 | آس پاس امریکی اسلحہ ڈپو میں دھماکے11 October, 2006 | آس پاس بغداد: بم دھماکوں میں چھ ہلاک23 April, 2006 | آس پاس بغداد: کار بم دھماکے ، چھ ہلاک18 November, 2005 | آس پاس بغداد: تین خود کش دھماکے، بیس ہلاک25 October, 2005 | آس پاس بغداد دھماکے میں 26 ہلاک13 July, 2005 | آس پاس خود کش دھماکے، پندرہ ہلاک14 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||