BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 March, 2007, 18:02 GMT 23:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد خود کش حملہ،26 ہلاک
بم حملے کے نتیجے میں ہونے والے دھماکے سے آس پاس کے علاقوں میں دور تک افرا تفری مچ گئی
عراقی دارالحکومت بغداد کے مصروف کاروباری علاقے میں ایک خود کش بمبار نے 26 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

بم حملے کے نتیجے میں ہونے والے دھماکے سے آس پاس کے علاقوں میں دور تک افرا تفری مچ گئی۔

یہ دھماکے المتنبی سٹریٹ کے اس حصے میں ہوا جہاں زیادہ تر کتابوں کی دکانیں ہیں اور کتابوں کے کھلے سٹال بھی لگائے جاتے ہیں۔

چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ دھماکے سے کئی دکانوں کو آگ لگ گئی اور انہوں نے ایک درجن سے زائد کاروں کو بھی جلتے ہوئے دیکھا۔

عراقی حکومت اور امریکی افواج پچھلے تین ہفتوں سے تشدد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایک بڑا آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نگراں چوکیوں کی تعداد میں اضافے اور سڑکوں پر فوجیوں کی تعداد بڑھنے سے ہلاکت خیز دستوں کی تعداد کم ہوئی ہے لیکن امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ کار بموں کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔

جیسے ہی بم دھماکہ ہوا اس کے بعد علاقے سے سیاہ دھویں کے بھاری مرغولے اٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔

اس بازار کا نام عربی کے مشہور شاعر المتنبی کے نام پر رکھا گیا ہے اور اس بازار میں شیعہ اور سنی دونوں ہی کی دکانیں ہیں اور دونوں کے مشترکہ خریدار ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹر نے ایک چشم دید گواہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

اس گواہ کا کہنا ہے کہ دھماکے سے زخمی ہونے والوں کو وہاں موجود لوگوں نے اپنی گاڑیوں میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا اور ایمبولنسوں کے آنے کا انتظار نہیں کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد