BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 March, 2007, 16:13 GMT 21:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیپال امن معاہدے کے بعد

سمجھوتے پر جہاں عام نیپالی خوش نظر آتے ہیں
ایک عشرے تک مسلح کارروائیاں کرنے والے ماؤ نواز باغیوں اور نیپال کی حکومت کے درمیان حالیہ سمجھوتے پر جہاں عام نیپالی خوش نظر آتے ہیں وہاں سیاح بھی خاصے مطمئن ہیں۔

کٹھمنڈو شہر میں گزشتہ تین برس سے ٹیکسی چلانے والے کومل رائے نے کہا کہ ماؤ نواز باغیوں کے حکومت سے معاہدے کے بعد امن ہوا ہے۔ ان کے مطابق سیاحوں کی آمد میں بھی اضافہ ہوا ہے جس سے ان کا روزگار بھی بہتر ہورہا ہے۔

سیاحتی مرکز بختا پور کے ایک گائیڈ ہری رام نے، جو سٹوڈنٹ بھی ہیں، بتایا کہ اب وہ روزانہ چار سے پانچ سیاحوں کی رہنمائی کرتے ہیں اور ان کا گذر بسر اچھا ہے جبکہ چند برس قبل تک صورتحال اتنی اچھی نہیں تھی۔

دارالحکومت سے دو گھنٹے کی مسافت پر ایک پہاڑی چوٹی پر واقع نگر کوٹ میں بدھا کا مجسمہ بنانے میں مصروف انیل کمار نے بتایا کہ معاہدے کے بعد سیاحوں کی آمدو رفت میں اضافے سے ان کا کاروبار بھی بہتر ہورہا ہے۔

لڑائی ختم ہو جائے گی لیکن حکومت نے باغیوں سے بلیک میل ہوکر انہیں بہت اختیارات دے دیے ہیں: دھرم راج

پونے تین کروڑ کے قریب آبادی والے جنوبی ایشیا کے چھوٹے ملک نیپال میں شہنشاہیت کے خاتمے کے بعد انیس سو نوے میں جو اصلاحات ہوئیں ان کے نتیجے میں کثیرالجماعتی سیاسی نظام کی بنیاد پڑی۔

ماؤ نواز کمیونسٹ پارٹی نے انیس سو چھیانوے میں مسلح کارروائیاں شروع کیں جو حکومت سے بات چیت کے بعد اقوام متحدہ کی ثالثی میں گزشتہ برس فائر بندی کے معاہدے کے بعد ختم کردیں۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق ماؤ نواز باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان دس برس میں ہونے والی مسلح جھڑپوں میں تیرہ ہزار افراد ہلاک ہوئے۔

معاہدے کے بعد ایک لاکھ سینتالیس ہزار ایک سو اکاسی مربع کلومیٹر پر مشتمل نیپال کے سات مقامات پر ماؤ نواز باغی اقوام متحدہ کو اسلحہ جمع کرا چکے ہیں اور ان کے دعوے کے مطابق ان کے پچیس ہزار سے زائد پیپلز لبریشن آرمی کے کارکن کیمپوں میں موجود ہیں۔

نیپال کے ضلع چِتون میں پہاڑوں کے قریب ماؤ نوازوں کے کیمپ پہنچے تو ان کے ایک کمانڈر کامریڈ ابیرل نے بتایا کہ وہ ابتدائی دنوں سے ہی ’پیپلز لبریشن آرمی‘ کے ساتھ منسلک ہیں۔ ان کے مطابق نیپالی فوج نے ان کی اہلیہ کو تشدد کرکے ہلاک کردیا تھا۔

سیریزینا ایک جنسی تشدد کے مقدمے کی سماعت کر رہی تھیں

اس سوال پر کہ حکومت سے معاہدے کے بعد اب لبریشن آرمی کے کارندے کیا کریں گے، انہوں نے کہا کہ تمام ’گوریلے، کیمپوں میں باوردی موجود رہیں گے اور ان کی پارٹی ان کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔‘ ان کے مطابق چتون کے کیمپ میں پانچ ہزار سے زیادہ کارکنوں نے اندراج کرایا ہے جس میں ایک ہزار کے قریب لڑکیاں بھی شامل ہیں۔
ابیرل نے بتایا کہ وہ نیپالی فوج اور پولیس کے ٹھکانوں پر حملے کرکے اسلحہ اور موٹر سائیکل وغیرہ چھینتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کی بہتری کے لیے لڑ رہے تھے اس لیے عام شہری انہیں کھانا اور پناہ دیتے تھے۔

اس کیمپ سے ملحقہ بستی میں ایک پنچایت میں پہنچے تو چھبیس سالہ خاتون باغی سیریزینا سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک جنسی تشدد کے مقدمے کی سماعت کر رہی ہیں جس کا فیصلہ وہ بستی کے بزرگوں کی مشاورت سے کریں گی۔

ماؤ نواز باغیوں کے کیمپ میں کئی باوردی بارہ چودہ سال کے بچے بھی نظر آئے لیکن کامریڈ ابیرل نے کہا کہ ان کی عمریں اٹھارہ برس ہیں۔ ان کے مطابق کیمپ میں کھانا پینا اب حکومت فراہم کرے گی جبکہ اسلحہ کے کنٹینرز کی چابیاں بھی ان کے پاس رہیں گی۔ تاہم اقوام متحدہ کے نمائندے نگرانی کے لیے ’کلوز سرکٹ ٹی وی‘ لگائیں گے۔

ملک بھر میں ستائیس ہزار ایسے خاندان ہیں جو ماؤ نواز باغیوں کے تشدد سے متاثر ہوئے

ماؤ نواز باغی کیمپ سے واپس آتے ہوئے سڑک کنارے واقع ایک دکان پر بیٹھے راج کمار نے بتایا کہ ماؤ نواز پہلے کبھی کبھار ان کے پاس آتے تھے اور کھانا کھا کر چلے جاتے تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ لوٹ مار نہیں کرتے تھے اور نہ ہی گوشت وغیرہ کی فرمائش کرتے بلکہ گھر میں جو پکا ہوتا کھا لیتے تھے۔

ماؤ نواز باغیوں کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے والے ایک گروپ کے رہنما دھرم راج نیوپانی نے بتایا کہ ملک بھر میں ستائیس ہزار ایسے خاندان ہیں جو ماؤ نواز باغیوں کے تشدد سے متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق کئی لوگوں کی زمینوں، مکانوں اوردکانوں پر اب بھی باغیوں کا قبضہ ہے۔

دھرم راج نے کہا کہ حکومت نے تاحال ماؤ نواز باغیوں کے تشدد اور لوٹ مار سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے کوئی امداد نہیں دی۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے متاثرین کے لیے بیرون ممالک سے فنڈ لیا ہے لیکن متاثرین کو دیا نہیں۔

پرنو کماری نامی ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ماؤ باغی اپنے مخالفین پر بہت ظلم کرتے تھے۔ ان کے مطابق ایک سکول ٹیچر کو فلم دکھانے کے بہانے لے گئے اور بعد میں انہیں قتل کردیا۔

دھرم راج سے جب ماؤ نواز باغیوں اور حکومت میں معاہدے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ اچھا ہوگیا کہ لڑائی ختم ہو جائے گی لیکن حکومت نے باغیوں سے بلیک میل ہوکر انہیں بہت اختیارات دے دیے ہیں۔

شاہ پر پتھراؤ
نیپال کے شاہ کے خلاف لوگوں کا اشتعال
ماؤ نواز باغینیپال امن مذاکرات
حکومت اور باغیوں میں مذاکرات کا دوسرا دور
باؤچر نیپالی دورے پر
’عوام سیاست میں شاہی مداخلت نہیں چاہتے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد