BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 February, 2007, 13:31 GMT 18:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیپال کے شاہ پر پتھراؤ
شاہ گیانندرہ کھٹمنڈو میں ماہا شوراتی مندر کی زیارت کے لیے جارہے تھے
نیپال کے شاہ گیانندرہ پر مشتعل ہجوم نے اس وقت پتھراؤ کردیا جب وہ کھٹمنڈو میں اپنے گاڑیوں کے قافلے پر ایک ہندو تہوار میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔

تاہم قافلے میں کوئی بھی پتھراؤ سے زخمی نہیں ہوا۔

شاہ گیانندرہ 2005 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک کی متنازعہ ترین شخصیت بن گئے ہیں حالانکہ نیپال میں روایتی طور پر بادشاہ کو ہندو دیوتا وشنو کا دوسرا جنم تصور کیا جاتا ہے۔

اپریل 2006 میں ملک بھر سے شدید احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں اپنے کئی اختیارات سے دستبردار ہونے کے بعد سے یہ شاہ گیانندرہ پر اپنی نوعیت کا پہلا حملہ ہے۔

شاہ گیانندرہ ماہا شوراتی مندر کی زیارت کے لیے جا رہے تھے جب مشتعل ہجوم نے ان کے خلاف نعرے بازی اور پتھراؤ شروع کردیا۔

کھٹنمڈو میں بی بی سی کے نامہ نگار سرندر پھویال کا کہنا ہے کہ مندر پر بھی شاہ کی موجودگی کے دوران صورتحال تقریباً ایک گھنٹے تک کشیدہ رہی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں مشتعل ہجوم کو قابو کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔

نیپال کی عبوری پارلیمان نے جون میں ہونے والے انتخات سے قبل شاہ کے کئی اختیارات واپس لے لیے ہیں۔ جون میں منتخب ہونے کے بعد نئی پارلیمان شاہی خاندان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔

شوراتی مندر کے تہوار پر ہر سال ہزاروں لوگ حاضری دینے کے لیے آتے ہیں۔

اسی بارے میں
بادشاہ ملک بدر یا مقدمہ
13 February, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد