نیپال کے شاہ پر پتھراؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کے شاہ گیانندرہ پر مشتعل ہجوم نے اس وقت پتھراؤ کردیا جب وہ کھٹمنڈو میں اپنے گاڑیوں کے قافلے پر ایک ہندو تہوار میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ تاہم قافلے میں کوئی بھی پتھراؤ سے زخمی نہیں ہوا۔ شاہ گیانندرہ 2005 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک کی متنازعہ ترین شخصیت بن گئے ہیں حالانکہ نیپال میں روایتی طور پر بادشاہ کو ہندو دیوتا وشنو کا دوسرا جنم تصور کیا جاتا ہے۔ اپریل 2006 میں ملک بھر سے شدید احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں اپنے کئی اختیارات سے دستبردار ہونے کے بعد سے یہ شاہ گیانندرہ پر اپنی نوعیت کا پہلا حملہ ہے۔ شاہ گیانندرہ ماہا شوراتی مندر کی زیارت کے لیے جا رہے تھے جب مشتعل ہجوم نے ان کے خلاف نعرے بازی اور پتھراؤ شروع کردیا۔ کھٹنمڈو میں بی بی سی کے نامہ نگار سرندر پھویال کا کہنا ہے کہ مندر پر بھی شاہ کی موجودگی کے دوران صورتحال تقریباً ایک گھنٹے تک کشیدہ رہی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں مشتعل ہجوم کو قابو کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ نیپال کی عبوری پارلیمان نے جون میں ہونے والے انتخات سے قبل شاہ کے کئی اختیارات واپس لے لیے ہیں۔ جون میں منتخب ہونے کے بعد نئی پارلیمان شاہی خاندان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ شوراتی مندر کے تہوار پر ہر سال ہزاروں لوگ حاضری دینے کے لیے آتے ہیں۔ | اسی بارے میں بادشاہ ملک بدر یا مقدمہ13 February, 2006 | آس پاس شاہ گیانندرا، ناجائز طاقت کا الزام20 November, 2006 | آس پاس نیپال: بادشاہت قائم تو مذاکرات ختم08 August, 2006 | آس پاس نیپال: شاہ کی پیشکش مسترد14 April, 2006 | آس پاس شاہ گیانندرا ویٹو کے حق سے محروم11 June, 2006 | آس پاس نیپال میں امن معاہدہ، تشدد ختم21 November, 2006 | آس پاس نیپال:’الیکشن کے التواء کی کوشش‘13 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||