BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شاہ گیانندرا، ناجائز طاقت کا الزام

شاہ گیانندرا
شاہ گیانندرا کو تمام انتظامی اختیارات سے محروم کیا جا چکا ہے
نیپال میں قانونی ماہرین کے ایک پینل نے شاہ گیانندرا کو جہوریت پسند مظاہریوں کے خلاف بے جا طاقت استعمال کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

پینل کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شاہ کے علاوہ اقتدار سے ہٹائی گئی شاہی حکومت کے دو سو افسران کو بھی اس سلسلہ میں ملوث پایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سخت کرفیو کے دوران ہونے والے جمہوریت پسند مظاہروں میں پولیس کی فائرنگ سے اکیس افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو گئے تھے۔ ان مظاہروں کی وجہ سے شاہ گیانندرا اپنا براہ راست اقتدار ختم کر کے پارلیمان کو دوبارہ بحال کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

پینل کی رپورٹ کی تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہیں لیکن پیر کو اپنی رپورٹ وزیر اعظم گرجا پراساد کوئرالا کو پیش کرنے کے بعد، پینل کے رکن نے تصدیق کی کہ اس میں شاہ گیانندرا کو طاقت کا ناجائز استعمال کرنے کا قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔

پینل کے رکن ہری ہار براہی نے بی بی سی کو بتایا کہ دوسرے دو سو افراد میں شاہی حکومت کے سینیئر وزراء اور سکیورٹی کے اعلی عہدیددار شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیپال کی اس شاہی کابینہ کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جو شاہ گیانندرا کے پندرہ ماہ کے براہ راست اقتدار کے دوران ملک کا نظم و نسق چلا رہی تھی۔

واضح رہے کہ طاقت کے ناجائز استعمال کے الزام میں ملوث قرار دیے جانے کے باوجود شاہ کو کوئی سزا نہیں دی جا سکتی کیونکہ نیپال کے موجودہ قانون کے مطابق وہ قانون سے بالا ہیں۔ دوسرے الفاظ میں شاہ کو سزا دینے کے لیئے حکومت کو نئے قوانین بنانے پڑیں گے۔

وزیراعظم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ حکومت کسی کو معاف نہیں کرے گی لیکن وہ کوئی بھی فیصلہ رپورٹ کرنے کے بعد ہی کرے گی۔

رپورٹ لکھنے والے پینل کے پانچ میں سے دو ارکان نے اس کے نتائج سے اختلافات کی وجہ سے حتمی رپورٹ پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ پینل کی صدارت سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کرشنا جنگ رایامجھی نے کی۔

رپورٹ میں پولیس پر مظاہرین کے خلاف بے جا طاقت کے استعمال کا الزام لگایا گیا ہے

پینل کو اس بات کی تحقیق کرنے کو کہا گیا تھا کہ آیا شاہ گیانندرا کی حکومت نے طاقت اورر فنڈز کا ناجائز استعمال کیا تھا یا نہیں۔

اقتدار سے الگ کیے جانے کے بعد شاہ گیانندرا کو تمام انتظامی اختیارات سے محروم کیا جا چکا ہے جن میں ملک کی نوے ہزار فوج پر کنٹرول بھی شامل تھا۔ اس وقت سے نیپال میں شاہی دور کے مکمل خاتمے کے مطالبات مسلسل ہوتے رہے ہیں۔

جس قانون ساز اسمبلی نے نیپال میں شہنشاہیت کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے، اس کے لیئے انتخابات اگلے سال کے اوائل میں متوقع ہیں۔

اسی بارے میں
نیپال: آرمی چیف مسترد
16 August, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد