نیپال:’الیکشن کے التواء کی کوشش‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کے ماؤ نواز باغی رہنما پشپا کمال دھال المعروف پراچند نے کہا ہے کہ نیپال میں کچھ طاقتیں جون میں ہونے والے انتخابات میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مسلح جدوجہد کوختم کر کے سیاسی عمل کاحصہ بننے کے بعد پشپا کمال دھال پراچند نے پہلے جلسہ عام سے خطاب کے دوران کہا کہ اگر انتخابات کو ملتوی کر دیا گیا تو نیپال میں بادشاہت ختم کر کے اسے وفاقی جمہوریہ قرار دے دینا چاہیے۔ پراچند نے کہا کہ ملک میں کچھ طاقتیں امن معاہدے کو ناکام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔تاہم پراچند نے کسی طاقت کا نام نہیں لیا۔ ماؤ نواز باغیوں نے نومبر 2006 میں مسلح جدوجہد ختم کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ اس مسلح جدوجہد میں 13000 ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم ماؤ نواز باغی امن معاہدے کے بعد سے اس پر عملدرآمد کی سست رفتار کی شکایت کرتے رہے ہیں۔ نیپال میں جون میں انتخابات ہونے والے ہیں جس کے نتیجے میں تشکیل پانے والی اسمبلی نیپال میں بادشاہت کا مستقبل طے کرے گی۔پراچند نے جلسے میں موجود اپنے ہزاروں حامیوں سے کہا کہ’ کوئی بھی نیپال کو جمہوریہ بننے سے نہیں روک سکتا‘۔ نیپال کے شاہ گیانندرا نے فروری 2005 میں مطلق العنانیت کا اعلان کیا تھا تاہم انہیں گزشتہ برس ہونے والے عوامی مظاہروں کے بعد ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام بحال کرنا پڑا تھا۔ پراچند کے جلسہ عام کے موقع پر سخت حفاظتی اقدامات دیکھنے میں آئے اور بڑی گاڑیوں کوجلسہ گاہ کی جانب نہیں جانے دیا گیا۔ پراچند پہلی مرتبہ آٹھ ماہ قبل پریس کے سامنے آئے تھے اور اس وقت سے ان کی کڑی حفاطت کی جاتی رہی ہے۔ | اسی بارے میں نیپال: بادشاہت قائم تو مذاکرات ختم08 August, 2006 | آس پاس اب اور جنگ نہیں: نیپال باغی 01 July, 2006 | آس پاس شاہ نیپال تفتیشی پینل کے سامنے29 August, 2006 | آس پاس نیپال: یواین معائنہ کاروں کا کام شروع 08 January, 2007 | آس پاس نیپال: شاہ کے اختیارات و مراعات14 May, 2006 | آس پاس نیپال: حکومتی فائر بندی کااعلان 03 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||