ہیلری اور ابامہ کے درمیان نزع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں سنہ دو ہزار آٹھ میں صدارتی انتخاب کے لیے ڈیموکریٹ پارٹی سے نامزدگی کے خواہشمند دو اہم امیدواروں ہیلری کلنٹن اور بیرک اوبامہ کے درمیان ایک نزع شروع ہوگئی ہے۔ یہ نزع اس وقت شروع ہوئی جب ہالی وڈ کی ایک با اثر شخصیت ڈیوڈ جیفن نے ہیلری کلنٹن کے حریف بیرک اوبامہ کے لیے فنڈ جمع کرنے کے لیے منعقدہ ایک تقریب کی میزبانی کی اور ایک انٹرویو میں کہہ دیا کہ ہیلری کلنٹن میں حصولِ اقتدار کی امنگ کچھ زیادہ ہی ہے۔ جیفن نے جنہوں نے ماضی میں سابق صدر بل کلنٹن کی حمایت کی تھی، یہ بھی کہا کہ بہت ممکن ہے کہ سابق خاتونِ اول کے صدر بننے سے امریکہ میں تفریق و تضاد بڑھ جائے۔ تاہم اس بیان کے بعد ہیلری کلنٹن کے کیمپ نے مطالبہ کیا کہ بیرک اوبامہ جیفن کے بیان کی مذمت کریں مگر اوبامہ کیمپ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ہیلری کلنٹن کے کیمپ نے اس قضیے کے بعد بیرک اوبامہ کے اس عہد پر سوال اٹھایا کہ وہ سیاست کے اس رخ سے پرے رہیں گے۔ جب ریاست نویڈا میں ہیلری کلنٹن سے تبصرے کو کہا گیا تو ان کا کہنا تھا: ’میں اپنی صدارتی مہم مثبت انداز میں چلانا چاہتی ہوں۔ میں قطعاً نہیں چاہتی کہ ڈیموکریٹ یا ان کے حمایتی ذاتی حملوں کی سیاست میں ملوث ہوں۔‘ بیرک اوبامہ کو کئی نامور شخصیات کی حمایت حاصل ہے۔ ان کے ایک ترجمان نے کہا ’ہم کلنٹن کی جوڑی اور ایک ایسی شخصیت کے درمیان نہیں آنا چاہتے جو کبھی سابق صدر اور سابق خاتونِ اول کی سب سے زیادہ طرف دار تھی۔‘ |
اسی بارے میں سی این این، اسامہ اور اوبامہ04 January, 2007 | آس پاس امریکی انتخابات، اسامہ کا استعمال21 October, 2006 | آس پاس امریکہ پولنگ کا اختتام، نتائج کا انتظار07 November, 2006 | آس پاس پہلا مسلمان امریکی سینیٹ کا رکن08 November, 2006 | آس پاس امریکی انتخابات: کون جیتا، کون ہارا؟08 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||