BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 February, 2007, 23:29 GMT 04:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موریطانیہ:’ کشتی پیر کو پہنچےگی‘
تارکینِ وطن کی کشتی(فوٹو: آئی او ایم)
غیر قانونی تارکینِ وطن کی یہ کشتی ایک ہفتے قبل سمندر میں خراب ہوئی تھی (فوٹو: آئی او ایم)
موریطانیہ کے ساحل کے قریب موجود تارکینِ وطن سے بھری کشتی ممکنہ طور پر پیر کو موریطانوی ساحل پر لنگر انداز ہوگی۔

اس کشتی میں میں دو سو غیر قانونی کشمیریوں سمیت سینکڑوں ایشیائی اور افریقی تارکینِ وطن سوار ہیں۔

حکام نے کشتی کو لنگر انداز ہونے کی اجازت اس بنیاد پر دی ہے کہ ہسپانوی حکام اس کشتی میں موجود تارکینِ وطن کے علاج اور واپسی کا خرچ برداشت کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق ڈاکٹروں کو میرین 1 نامی اس کشتی کی جانب روانہ کیا جا چکا ہے اور ان کے ہمراہ کمبل اور کپڑے بھی بھیجےگئے ہیں۔ موریطانیہ کے حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ پیر کو کشتی کے لنگرانداز ہونے سے قبل تمام طبی سہولیات موقع پر موجود ہونی چاہئیں۔

سپینش ریڈکراس کے رکن اولگا مارٹینز کے مطابق کشی کی جانب ایک لانچ کو بھیجا گیا ہے جس پر سپینش ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ کے اراکین سوار ہیں۔ ان کا کہا تھا کہ’یہ لوگ خاصے عرصے سے سمندر میں موجود ہیں اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کشتی پر متعدد افراد اسہال کی بیماری کا شکار ہیں اور کچھ بہت کمزور ہو چکے ہیں‘۔

نوادھیبو کےگورنر محمد یحیٰی کا کہنا ہے کہ یہ حتمی طور پر کہنا ممکن نہیں کہ کشتی پیر کو لنگ انداز ہو جائے گی تاہم تارکینِ وطن کی واپسی کے لیے تین طیارے نوادھیبو پہنچ چکے ہیں۔

سپین کے وزیرِ داخلہ الفریڈو پیریز نے سنیچر کو صحافیوں کو بتایا تھا کہ آٹھ دن کی قانونی کشمکش کے بعد موریطانیہ کے حکام نے جہاز کو خشکی پر لانے کی اجازت دی ہے۔

 یہ لوگ خاصے عرصے سے سمندر میں موجود ہیں اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کشتی پر متعدد افراد اسہال کی بیماری کا شکار ہیں اور کچھ بہت کمزور ہو چکے ہیں
سپینش ریڈ کراس

ان کا کہنا تھا’ جمعہ کو زبانی معاہدہ ہوگیا تھا تاہم تحریری معاہدے کے وقت موریطانیہ نے کچھ نئی شرائط شامل کر دیں جس پر دوبارہ بات چیت شروع ہوئی اور سنیچر کی دوپہر معاہدہ طے پا گیا‘۔

معاہدے کے مطابق کشتی کو نوادھیبو کی بندرگاہ پر لایا جائے گا اور اس پر سوار بیمار اور کمزور افراد کا علاج موریطانیہ میں کیا جائےگا جبکہ تارکینِ وطن کی واپسی کا انتظام سپین کے ذمّے ہوگا۔

غیر قانونی تارکینِ وطن سے بھری ہوئی یہ کشتی ایک ہفتے قبل سمندر میں خراب ہوگئی تھی اور سپین کی بحری فوج کے ایک جہاز نے اس کشتی کو کھینچ کر موریطانیہ کی شمالی بندرگاہ نووادھیبو پہنچایا۔ یہ کشتی گنی کی طرف جا رہی تھی جہاں سے اس کی منزل کنیری کے جزائر تھی۔

سینیگال اور موریطانیہ غیر ملکی تارکینِ وطن کے لیے یورپی ممالک میں داخل ہونے کے لیے مقبول ہیں۔ ان ممالک سے غیر ملکی تارکینِ وطن کنیری جزیروں پر پہنچتے ہیں جہاں سے انہیں یورپ میں داخل ہونے میں آسانی ہوتی ہے۔

اسی بارے میں
بارہ سو پاکستانی گرفتار
19 January, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد