موریطانیہ:تارکینِ وطن کو اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہسپانوی حکام کا کہنا ہے کہ موریطانیہ نے تارکینِ وطن سے بھری کشتی کو اپنے ساحل پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دے دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق میرین 1 نامی اس کشتی میں دو سو غیر قانونی کشمیریوں سمیت سینکڑوں تارکینِ وطن سوار ہیں۔ سپین کے وزیرِ داخلہ الفریڈو پیریز نے سنیچر کو صحافیوں کو بتایا کہ آٹھ دن کی قانونی کشمکش کے بعد موریطانیہ کے حکام نے جہاز کو خشکی پر لانے کی اجازت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا’ جمعہ کو زبانی معاہدہ ہوگیا تھا تاہم تحریری معاہدے کے وقت موریطانیہ نے کچھ نئی شرائط شامل کر دیں جس پر دوبارہ بات چیت شروع ہوئی اور سنیچر کی دوپہر معاہدہ طے پا گیا‘۔ معاہدے کے مطابق کشتی کو نوادھیبو کی بندرگاہ پر لایا جائے گا اور اس پر سوار بیمار اور کمزور افراد کا علاج موریطانیہ میں کیا جائےگا جبکہ تارکینِ وطن کی واپسی کا انتظام سپین کے ذمّے ہوگا۔ کشتی کے آمد کے حوالے سے ساٹھ ہسپانوی پولیس اہلکار بھی نوادھیبو پہنچ چکے ہیں۔ یاد رہے کہ چند روز قبل موریطانیہ کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ موریطانیہ کا اس کشتی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اس میں سوار غیر ملکی تارکین وطن کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے۔ غیر قانونی تارکینِ وطن سے بھری ہوئی یہ کشتی سنیچر کو سمندر میں خراب ہوگئی تھی اور سپین کی بحری فوج کے ایک جہاز نے اس کشتی کو کھینچ کر موریطانیہ کی شمالی بندرگاہ نووادھیبو پہنچایا۔ یہ کشتی گنی کی طرف جا رہی تھی جہاں سے اس کی منزل کنیری کے جزائر تھی۔ سینیگال اور موریطانیہ غیر ملکی تارکینِ وطن کے لیے یورپی ممالک میں داخل ہونے کے لیے مقبول ہیں۔ ان ممالک سے غیر ملکی تارکینِ وطن کنیری جزیروں پر پہنچتے ہیں جہاں سے انہیں یورپ میں داخل ہونے میں آسانی ہوتی ہے۔ | اسی بارے میں پھنسے پاکستانیوں کیلیے امداد06 February, 2007 | آس پاس سینکڑوں پاکستانی تارکین پھنس گئے05 February, 2007 | آس پاس بارہ سو پاکستانی گرفتار19 January, 2007 | پاکستان تارکین وطن سے فائدہ نہیں: رپورٹ03 January, 2007 | آس پاس یونان پاکستانی: تفتیش کارمقرر29 December, 2005 | آس پاس انسانی سمگلنگ کے خلاف نئے اقدامات02 August, 2005 | پاکستان پاکستانی، بھارتیوں کا ہسپانیہ پر ہلہ 27 April, 2005 | آس پاس مسقط سے نکالے گئے پاکستانی واپس22 September, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||