بیروت ہڑتال: تین ہلاک، سو زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان میں حزب اللہ کی طرف سے منگل کو ہڑتال کی کال پر حکومت کے حامیوں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم تین افراد ہلاک اور سو زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ جھڑپیں لبنان کے داراحکومت بیروت اور ملک کے دیگر حصوں میں ہوئی حزب اللہ کا مطالبہ ہے کہ فواد سینیورا کی حکومت مستعفی ہو جائے اور وہ تازہ انتخابات منعقد کیے جائیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کا جھکاؤ مغرب کی طرف کہیں زیادہ ہے اور ملک میں تباہی کی ذمہ دار بھی یہی حکومت ہے۔ جبکہ مغرب نواز لبنانی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہڑتال کرنے والے دراصل حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔ لبنان کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ اپوزیشن کے دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے اور اپنے عہدے سے استعفی نہیں دیں گے۔ حکومت نے گزشتہ روز یہ بھی کہا تھا کہ کسی کو سڑکیں بلاک کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ضروری ہوا تو مظاہرین کو روکنے کے لیے فوج بھی استعمال کی جائے گی۔ حزب اللہ کی طرف سے منگل کو ہڑتال کرنے کے اعلان کے بعد سے لبنان میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ حکومت نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ معمول کے مطابق اپنے کام کرتے رہیں۔ تاہم یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ اگر مظاہرین نے سڑکیں بند کیں تو صورتِ حال خراب ہو سکتی ہے کیونکہ وزیرِ اعظم فواد سینیورا نے کہا ہے کہ سکیورٹی فوج سڑکوں کو کھلا رکھے گی۔
بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جِم میور نے اپنے مراسلے میں بتایا کہ حزب اللہ کی جانب سے ہڑتال اپوزیشن جماعتوں اور سیاسی قوتوں کے درمیان طاقت کا امتحان سمجھی جا رہی ہے۔ گزشتہ سال یکم دسمبر سے حزب اللہ اور اس کے حلیفوں نے بیروت میں سرکاری عمارات کو تقریباً گھیر رکھا ہے جس سے شہر کا مرکز مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ تاہم حزب اللہ کے اس اقدام کے باوجود قومی اتحاد کی وہ حکومت ابھی تک نہیں بن سکی جس میں حزب اللہ اور اس کے حلیفوں کو ہر وہ فیصلہ ویٹو کرنے کا اختیار مل سکتا ہے جسے وہ ناپسند کریں۔ یہی وجہ ہے کہ حزب اللہ نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے منگل کو ہڑتال بلائی ہے۔
اس ہڑتال سے ملک انتہائی قسم کی بے یقینی کا شکار ہو گیا ہے اور کسی کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ آیا منگل کی ہڑتال ایک دن کا احتجاج ہوگا یا پھر یہ سلسلہ آگے بڑھتا جائے گا۔ اگرچہ اپوزیشن نے واضح طور سے اس طرح کی کوئی بات نہیں کی لیکن عام توقع یہی ہے کہ اس کے حمایتی سڑکیں بند کرنے کی کوشش کریں گے اور ناکے لگا کر شہر کو مفلوج کرنا چاہیں گے۔ ادھر وزیرِاعظم فواد سینیورا نے کہا ہے کہ فوج اور دیگر ادارے یہ بات یقینی بنائیں گے کہ منگل کو سڑکیں کھلی رہیں تاکہ وہ لوگ جو کام پر جانا چاہتے ہیں انہیں دقت نہ ہو۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب جمعرات کو بین الاقوامی امدادی ادارے پیرس میں ایک اجلاس میں اس بات پر غور کریں گے کہ گزشتہ سال گرمیوں میں لبنان پر اسرائیلی حملے سے ہونے والی تباہی کے بعد لبنان کی مدد کس طرح کی جا سکتی ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ منگل کو بلائی جانے والی ہڑتال میں اہلِ تشیع بھر پور انداز میں شریک ہوں گے لیکن سنی مسلمان کافی حد تک حکومت کے طرف دار ہیں لہذا اپنے علاقوں میں وہ ہڑتال میں حصہ نہیں لیں گے۔ تاہم ایسے علاقے جہاں ملی جلی آبادی ہے اور جہاں مسیحی رہتے ہیں وہاں کنفیوژن ہے۔ کچھ مسیحی دھڑے حکومت کے حامی جبکہ کچھ حزب اللہ کے حق میں ہیں۔ |
اسی بارے میں ’لبنانی حکومت مستعفی ہو جائے‘01 December, 2006 | آس پاس حزب اللہ، وضاحت: استعفے نامنظور 12 November, 2006 | آس پاس حزب اللہ نے استعفے پیش کر دیئے11 November, 2006 | آس پاس لبنانی وزیراعظم کےخلاف مظاہرہ01 December, 2006 | آس پاس لبنان بحران کے لیے عرب سفارتکاری03 December, 2006 | آس پاس لبنان: حکومتی استحقاق ختم: صدر 13 November, 2006 | آس پاس لبنان میں امن فوج بڑھانے کی کوشش23 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||