BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 January, 2007, 04:24 GMT 09:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہرانت دِنک قتل، ایک شخص گرفتار
اوگل سمسات کی نشاندہی سکیورٹی کیمرے کی فوٹیج سے کی گئی
استنبول میں ترک آرمینیائی صحافی ہرانت دِنک کے قتل کے الزام میں ترکی کی پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

استنبول کے گورنر کے مطابق پولیس نے اوگل سمسات کو سیمسن نامی شہر میں ایک بس پر سفر کرتے وقت گرفتار کیا۔ اس کی عمر سولہ یا سترہ سال بتائی گئی ہے۔

اوگل سمسات کی نشاندہی قتل کے مقام پر سکیورٹی کیمرے کی فوٹیج سے کی گئی۔ استنبول کے گورنر کے مطابق گرفتاری کے وقت مشتبہ شخص کے پاس سے ایک بندوق برآمد ہوا ہے جبکہ ترابزون نامی شہر میں چھ دیگر مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

آرمینیا کی حکومت نے آرمینیائی نژاد ترک صحافی کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ استنبول میں بھی ہزاروں لوگوں نے صحافی ہرانت دِنک کے قتل پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

آرمینیا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ صحافی ہرانت دِنک کے قتل سے واضح ہوگیا ہے کہ ترکی یورپی یونین میں شامل ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہرانت دِنک کو جمعہ کے روز ان کے دفتر کے سامنے گولی مارکر ہلاک کردیا گیا۔

ہرانت دِنک کے قتل پر صحافیوں اور سیاست دانوں نےغم و غصے کا اظہار کیا
ہرانت دِنک نے 1915 میں سلطنت عثمانیہ کے زوال کے اواخر میں آرمینیائی لوگوں کے قتل عام کے بارے میں کافی کچھ لکھا تھا۔ آرمینیا کے صدر روبرٹ کوچریان نے کہا کہ ہرانت دِنک کے قتل سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں اور ان کے قتل کی مذمت کی جانی چاہیے۔

آرمینیا کی پارلیمان کے اسپیکر ٹِگران ٹوروسیان نے یہاں تک کہہ دیا کہ اس قتل کے بعد ترکی کو یورپی یونین میں شامل ہونے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیے۔

ہرانت دِنک کے قتل پر ترکی میں صحافیوں اور سیاست دانوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ کئی اہم شخصیتوں نے اس قتل کو سیاسی قتل قرار دیا ہے۔ امریکہ، یورپی یونین، فرانس اور حقوق انسانی کی کئی تنظیموں نے بھی اس قتل کی شدید مذمت کی ہے۔

اکتوبر 2005 میں ہرانت دِنک کو ترک شناخت کی بےعزتی کرنے کا مجرم پایا گیا تھا کیوں کہ انہوں نے ایک مضمون لکھا تھا جس میں نو عشرے قبل آرمینیائی لوگوں کے قتل عام کے بارے میں کچھ کہنے کی کوشش کی گئی تھی۔

سلطنت عثمانیہ کے آخری دنوں میں آرمینیائی لوگوں کے قتل کے بارے کچھ لکھنا یا کہنا ترکی میں ایک حساس موضوع سمجھا جاتا ہے اور اس کے بارے میں لکھنے پر قانونی پابندیاں عائد ہیں۔

کئی آرمینیائی لوگ عالمی پیمانے پر اس ’قتل عام‘ کے اقرار کے لیے مہم چلارہے ہیں۔ ترکی نے کسی بھی قتل عام سے انکار کیا ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں پہلی جنگ عظیم کا حصہ تھیں۔ سرد جنگ کے خاتمے پر آزادی حاصل کرنے کے بعد آرمینیا کی حکومت نے ترکی کے ساتھ کسی بھی طرح کا سفارتی تعلق قائم کرنے سے انکار کردیا۔

اسی بارے میں
قومی تضحیک: سماعت رُک گئی
16 December, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد