سزائے موت ختم کریں:اطالوی مہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹلی کے وزیر اعظم رومانو پروڈی نے کہا ہے کہ ان کا ملک عالمی سطح پر سزائے موت کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ میں مہم چلائے گا۔ اقوام متحدہ میں اٹلی کے سفیر پہلے ہی اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے گزشتہ ماہ پیش کی گئی ایک دستاویز کے از سر نو جائزے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ اٹلی اس ہفتے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا ہے۔ وزیر اعظم پروڈی نے کہا کہ کوئی بھی جرم اس بات کا جواز فراہم نہیں کرتا کہ ایک انسان دوسرے انسان کو مار دے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذہب اور تہذیبیں یہی پیغام دیتی ہیں۔ اٹلی نے سزائے موت پر پابندی کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انیس سو چورانوے اور انیس سو پچانوے میں تجاویز پیش کی تھیں۔ گزشتہ سال جولائی میں اٹلی کی پارلیمان نے اپنی حکومت پر زور دیا کہ وہ ایک بار اس تجویز کو جنرل اسمبلی کے سامنے رکھے لیکن یورپی ارکان میں اختلافات کے باعث اس پر پیش رفت نہیں ہو سکی۔ اٹلی میں دائیں اور بائیں بازو کے سیاستدان عراق کے معزول صدر صدام حسین کی پھانسی پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر چکے ہیں۔ | اسی بارے میں پھانسی کی سزا پر اٹلی کی مذمت 28 December, 2006 | آس پاس عراق: موت کی سزا بحال08 August, 2004 | آس پاس سزائےموت ملنی چاہیے: امریکہ23 April, 2005 | آس پاس تین سال کے بعد پہلی سزائے موت19 January, 2005 | آس پاس سری لنکا میں سزائے موت بحال20 November, 2004 | آس پاس امریکہ میں ہزارویں سزائے موت02 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||