BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 December, 2006, 08:43 GMT 13:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں مشکل صورتحال کا سامنا
رابرٹ گیٹس
عراق میں فوجی حکمت عملی تبدیل کرنے سے پہلے رابرٹ گیٹس صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں
امریکہ کے نئے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ عراقی قیادت ملک کی سیکورٹی سنبھالنے اور شیعہ عسکریت پسندوں سے نمٹنے کا مضبوط ارادہ رکھتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے پہلے دورہ عراق کے بعد واشنگٹن پہنچنے پر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ رابرٹ گیٹس عراق کے اپنے تین روزہ دورہ عراق کے بارے میں صدر جارج بش اور ان کی سیکورٹی ٹیم کو سنیچر کی دوپہر ایک اجلاس کے دوران بریفنگ بھی دینگے۔ اس اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس بھی شریک ہونگی۔

صدر بش نے اپنے ایک حالیہ بیان میں تسلیم کیا ہے کہ امریکہ عراق میں جنگ نہیں جیت رہا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ عراق میں فوجی حکمت عملی تبدیل کرنے سے پہلے وہ نئے وزیر دفاع کو وہاں کی موجودہ صورتحال سمجھنے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔

رابرٹ گیٹس نے اپنے دورہ کے دوران عراقی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور زور دیا کہ عراق میں جاری فرقہ وارانہ تشدد کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے اسے آگے بڑھ کر اقدامات کرنے ہونگے۔ متحارب شیعہ اور سنی فرقوں کے درمیان پر تشدد واقعات میں ہزاروں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ دارالحکومت بغداد فرقہ وارانہ تشدد کی کارروائیوں میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

جانوں کی سرمایہ کاری
 عراق میں ڈالروں اور انسانی جانوں کی امریکی سرمایہ کاری کی قیمت وصول ہوگی
کونڈلیزا رائس

گیٹس کا کہنا تھا ’عراق میں کافی مشکل صورتحال کا سامنا ہے اور کامیابی کے لیے ایک مشترکہ کوشش کرنی ہوگی، جس میں عراقی حکومت کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا‘۔

تاہم وزیراعظم نوری المالکی پر تنقید کرنے والوں کہنا ہے کہ وہ اپنی حکومت میں شامل عسکریت پسندوں کو قابو کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ادھر نوری المالکی کی حکومت میں شامل شیعہ رہنما مقتدہ الصدر کی جماعت چاہتی ہے کہ امریکی فوج عراق سے اپنی واپسی کا ٹائم ٹیبل دے۔

رابرٹ گیٹس جب عراق میں اپنا دورہ مکمل کر رہے تھے تو مغربی صوبہ انبار سے چار امریکی فوجیوں کی ایک جھڑپ میں ہلاکت کی اطلاع آئی۔ اسی طرح بغداد کے مغرب میں گشت میں مصروف امریکی فوجیوں پر مارٹر گولوں سے حملہ کیا گیا ہے، جس میں ایک فوجی کے ہلاک اور ایک کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

ان واقعات کے بعد عراق میں اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد دو ہزار نو سو ساٹھ ہو گئی ہے۔ تاہم کونڈولیزا رائس نے عراق پر امریکی مداخلت کی حمایت کرتے ہوئے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عراق میں ڈالروں اور انسانی جانوں کی امریکی ’سرمایہ کاری‘ کی قیمت وصول ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد