BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 December, 2006, 07:59 GMT 12:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
احمدی نژاد کے لیے دھچکا
انتخابات کے نتائج صدر احمدی کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوں گے (فائل فوٹو)
ایران میں مقتدر علمائے دین پر مشتمل ’مجلس خبرگان‘ اور مقامی انتخابات کے جزوی نتائج سے قدامت پسند صدر احمدی نژاد کی قیادت کو دھچکا لگا ہے۔

جمعہ کو ملک کے اس انتہائی طاقت ور مذہبی ادارے کے اراکین کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے گئے تھے۔ مجلس خبرگان کو ایران کے رہبر اعلیٰ کو برخواست کرنے اور ان کا جانشین مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب 60 فیصد رہا اور نمایاں کامیابی میانہ رو اور اصلاح پسند دھڑے کو ملی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شکست کے بعد ملک کی سیاست میں اب اصلاحات پسندوں کی واپسی ہوئی ہے۔ سابق اعتدال پسند صدر اکبر ہاشمی رفسجانی کومجلس خبرگان کی نشست پر اکثریتی ووٹوں سے کامیابی ملی ہے۔

ملک میں مقامی انتخابات کے بیشتر نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے۔ صدر احمدی کے اتحادی کونسلوں میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ احمدی نژاد کے حامی امیدواروں کی اکثریت پر مشتمل تہران کونسل میں ووٹوں کی گنتی کا بیس فیصد کام مکمل ہو گیا ہے۔ یہاں اعتدال پسند میئر بگھیر قلبایف کے حامی ووٹوں کی گنتی کے اعتبار سے آگے ہیں۔

شیراز، رشت یا بندر عباس میں صدر احمدی کے حامی کسی ایک امیدوار کو بھی کونسل کے انتخابات میں واضح فتح حاصل نہیں ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ صدر کے حامی مجلس خبرگان میں بھی کوئی نمایاں کامیابی حاصل کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

ایران میں بی بی سی کے تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ حالیہ انتخابات ایک واضح اور کھلا پیغام ہے اور توقع ہے اس طرح صدر احمدی کی پالیسیوں پر دباؤ پڑے گا۔

اصلاح پسندوں نے انتخابات کے ابتدائی نتائج کا خیر مقدم کیا ہے۔ اسلامک ایران پارٹیسیپیشن فرنٹ کا کہنا ہے کہ نتائج حکومتی جبر اور غیر موثر طریقوں کے سامنے بڑا انکار ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ان انتخابات کے اصل فاتح سابق صدر اکبر رفسجانی ہیں جنہیں احمدی نژاد نے گزشتہ صدارتی انتخابات میں شکست دی تھی۔ صدر محمود احمدی نژاد کے حمایت یافتہ امیدوار آیت اللہ مصباح یزدی چھٹے نمبر پر رہے ہیں۔ اس مرتبہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب بھی گزشتہ کے مقابلے میں بلند رہا اور 60 فیصد ووٹ پڑے جبکہ 2002 کے انتخابات میں یہ تناسب 50 فیصد تھا۔

اسی بارے میں
رفسنجانی کا سخت ردِ عمل
11 January, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد