 |  محمود احمدی نژاد کو ایک سخت گیر رہنما تصور کیا جاتا ہے |
ایرانی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں سخت گیر رہنما محمود احمدی نژاد نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ دوسرے مرحلے میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی تقریباً مکمل ہوگئی ہے جس میں اطلاعات کے مطابق احمدی نژاد نے اکسٹھ فیصد جب کے ان کے مد مقابل سابق صدر ہاشمی رفسنجانی نے پینتیس فیصد ووٹ ڈالےہیں۔ حکام کے مطابق دو کروڑ بیس لاکھ ووٹوں میں سے ایک کروڑ تیس لاکھ ووٹوں کی گنتی مکمل ہو گئی ہے۔ دوسرے مرحلے کی پولنگ میں ووٹنگ کا تناسب سینتالیس فیصد رہا جب کہ پہلے مرحلے میں تریسٹھ فیصد ووٹروں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا۔ ایران کے غریب صوبوں سے احمدی نژاد کو  |  ووٹوں کی گنتی جاری ہے | بھاری تعداد میں ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ احمدی نژاد نے ایران کے پسے ہوئے اور معاشی طور پر پسماندہ طبقوں کی معاشی ترقی کے لیے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا تھا۔انتخابی مہم کے دوران انہوں نے ملک سے بدعنوانیوں اور کرپش کو ختم کرنے اور زوال پذیر مغربیت سے بھی نجات دلانے کے وعدے کیے ہیں۔ تاہم ان کے مدمقابل ہاشمی رفسنجانی اصلاحات اور مغربی ممالک اور امریکہ سے تعلقات بہتر کرنے کی بات کرتے رہے ہیں۔ ایران میں صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں کوئی امیدوار مقررہ پچاس فیصد ووٹ لینے میں ناکام رہا تھا جس کے پہلے دو امیدواروں کے درمیان جمعہ کو ووٹنگ ہوئی۔ ایران کی انتخابی تاریخ میں صدارتی الیکشن میں انتا جوش وخروش دیکھنے میں نہیں آیا اور صدارت کا انتخاباب لڑنے والوں کے درمیان اتنا شدید معرکہ نہیں ہوا ہے۔ محمود احمد ی نژاد اور ہاشمی رفسنجانی کے درمیان ہونے والے مقابلے کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔ |