عراق: رمزفیلڈ کو بھی شکوک تھے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ مستفعی ہونے کے دو روز پہلے بش انتظامیہ کی عراقی پالیسی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ڈونلڈ رمز فیلڈ نے امریکہ میں حالیہ الیکشن کے دو روز پہلے عراق کے بارے بش انتظامیہ کی پالیسی کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس میں تبدیلی کی سفارش کی تھی۔ اخبار کے مطابق ڈونلڈ رمزفیلڈ نے چھ نومبر کو صدر بش کو ایک خفیہ خط ارساں کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ عراق میں امریکی پالیسی کامیاب نہیں ہو رہی اور اس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ڈونلڈ رمزفیلڈ کو امریکہ کی عراق پالیسی کا سب سے بڑا حامی تصور کیا جاتا تھا۔ اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ رمزفیلڈ کا وہ میمو جو انہوں نے صدر بش کو بھیجا تھا وہ اس کے پاس موجود ہے۔ امریکہ کے مدت وسطی انتخابات میں حکمران جماعت ریپبلیکن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ڈونلڈ رمزفیلڈ کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔ | اسی بارے میں رمز فیلڈ پر جرمنی میں مقدمہ14 November, 2006 | آس پاس رمزفیلڈ کی جگہ باب گیٹس08 November, 2006 | آس پاس ڈونلڈ رمزفیلڈ کون؟08 November, 2006 | آس پاس ’عراق میں امریکی کامیابی ممکن ہے‘25 October, 2006 | آس پاس ڈونلڈ رمزفیلڈ اچانک بغداد پہنچے26 April, 2006 | آس پاس پروپیگنڈہ جنگ میں پیچھے ہیں: رمزفیلڈ18 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||