اطالوی نیوز فوٹوگرافر رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین ہفتے قبل افغانستان میں اغواء ہونے والے اطالوی نیوز فوٹوگرافر گبرئیل تارسیلو کو اغواکاروں نے رہا کر دیا ہے۔ اطالوی وزارت دفاع کی طرف سے جاری کیئے گئے ایک بیان میں تارسیلو کی بازیابی کی تصدیق تو کی گئی ہے لیکن اس بارے کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ ان کی رہائی کن حالات میں ممکن ہوئی۔ تاہم اطالوی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چھتیس سالہ تارسیلو خیریت سے ہیں۔ تارسیلو، جو حال ہی میں مسلمان ہوئے تھے، اور ان کے افغان مترجم کو ہلمند سے قندھار جاتے ہوئے نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا۔ ابتداء میں اغواکاروں نے تارسیلو کی رہائی کہ بدلے مسلمان سے عیسائی ہونے والے افغان عبدالرحمنٰ کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم اطالوی حکام نے تارسیلو کی رہائی کے مسئلے پر کسی قسم کی سودے بازی سے انکار کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ عیسائی مذہب قبول کرنے پر عبدالرحمنٰ کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا جس پر انہوں نے اٹلی میں پناہ حاصل کی تھی۔ جمعرات کو اٹلی کے ایک اخبار نے خبر دی تھی کہ اغواکاروں اور افغان فوج کے درمیان جھڑپ میں تارسیلو ہلاک یا شدید زخمی ہوئے ہیں۔ اطالوی وزارت دفاع نے ان خبروں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔ تارسیلو کی بازیابی کی کوششوں میں افغانستان میں کام کرنے والا ایک اطالوی امدادی ادارہ ’ایمر جنسی‘ پیش پیش رہا ہے۔ اس ادارے سے وابستہ آن لائن اخبار ’پیس رپورٹر‘ کے مطابق ’ایمر جنسی‘ کو فون کال کے ذریعے کسی نے اطلاع دی کہ تارسیلو کو قندھار کی طرف جانے والی سڑک پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ تارسیلو کے ساتھ اغوا ہونے والے ان کے مترجم کی بازیابی بارے کچھ نہیں بتایا گیا۔ | اسی بارے میں ’اطالوی صحافی کو رہا کرو‘26 October, 2006 | آس پاس اطالوی فوٹوگرافر افغانستان میں اغوا15 October, 2006 | آس پاس غزہ: سپینی فوٹوگرافر کی رہائی24 October, 2006 | آس پاس فلسطین: سپین کے صحافی کا اغواء24 October, 2006 | آس پاس ’ٹورسیلو کے بدلے عبدالرحمٰن‘18 October, 2006 | آس پاس امریکی رپورٹ: اٹلی کا اختلاف30 April, 2005 | آس پاس اطالوی باشندوں کی رہائی کے لئے ریلی29 April, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||