’ٹورسیلو کے بدلے عبدالرحمٰن‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں ایک اطالوی صحافی کے اغوا کاروں نے کہا ہے کہ وہ ایک افغان شخص کے بدلے صحافی کو رہا کرنے پر تیار ہیں جو عیسائیت قبول کرنے کے بعد ملک چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ عبدالرحمٰن کو کچھ عرصہ قبل تبدیلی مذہب کے بعد اٹلی میں پناہ دے دی گئی تھی۔ گیبریالا ٹورسیلو نامی صحافی کو گزشتہ جمعرات اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ جنوبی افغانستان میں ایک بس پر سفر کررہے تھے۔ اغوا کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عبدالرحمٰن کو ان کے حوالے کردیا گیا تو وہ ٹورسیلو کو رہا کردیں گے۔ افغانستان میں عبدالرحٰمن کو سزائے موت کا سامنا تھا۔ انہوں نے سولہ برس قبل اسلام ترک کردیا تھا۔ ان پر اسلام ترک کرنے کا الزام ہے۔ اس سال مارچ میں انہیں ذہنی طور پر بیمار بھی قرار دیا گیا تھا۔ جس کے بعد وہ اٹلی منتقل ہوگئے تھے۔ اغوا کاروں نے یہ مطالبہ ایک ہسپتال کی سکیورٹی کے سربراہ کو ایک فون کال کے ذریعے کیا ہے۔ یہ ہسپتال اٹلی کی امدادی ایجنسی چلاتی ہے۔ اغوا کاروں کا کہنا ہے کہ صحافی کے بدلے عبدالرحمٰٰن کی واپسی کا کام رمضان ختم ہونے سے پہلے کیا جانا چاہیئے۔ ابھی یہ معلوم نہیں اغوا کاروں کا تعلق کس گروہ سے ہے۔ اطالوی صحافی لندن میں کام کرتے ہیں اور انہوں نے تبدیلی مذہب کے بعد اسلام قبول کیا ہے۔ انہوں نے جنوبی افغانستان کے ایک مقامی ہسپتال میں فون کرکے مطلع کیا تھا کہ انہیں اغوا کرلیا یا ہے۔ افغانستان میں اطالوی صحافی کے ساتھی غلام محمد کا کہنا ہے کہ ٹورسیلو کو پانچ مسلح افراد نے اغوا کیا ہے۔ طالبان کے ایک نمائندے نے اس اغوا سے لاعلمی کا اظہا کیا ہے اور کہا ہے کہ اغوا کاروں سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اس سال کے آغاز پر دو جرمن صحافیوں کو شمالی افغانستان میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں طالبان سے لڑائی مشکل ہے: برطانیہ19 September, 2006 | آس پاس افغان ضلع پر طالبان کا ’قبضہ‘ 15 September, 2006 | آس پاس امریکی ہیلی کاپٹر تباہ: طالبان 30 June, 2004 | آس پاس افغان چوکیوں پر حملہ، نو ہلاک17 April, 2004 | آس پاس طالبان کا کچھ علاقوں پر قبضہ25 October, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||