اطالوی فوٹوگرافر افغانستان میں اغوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک اطالوی فوٹو جرنلسٹ کو جنوبی افغانستان میں بس کے سفر کے دوران اغواء کر لیا گیا ہے۔ فوٹو جرنلسٹ گیبریئل ٹورسیلو افغانستان کے جنوبی صوبوں ہلمند اور قندھار کے درمیان بس میں سفر کر رہے تھے۔ ایک اطالوی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق گیبریئل ٹورسیلو نے ایک مقامی اخبار کو ٹیلی فون کر کے بتایا ہے کہ انہیں جمعرات کو اغوا کر لیا گیا اور انہیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہے۔ دوسری طرف ایک افغان خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ انہوں نے گیبریئل ٹورسیلو کے موبائل پر فون کیا تھا لیکن فون کا جواب گیبریئل کے بجائے ایک ایسے شخص نے دیا جو طالبان ہونے کا دعویٰ کر رہے تھے۔ ’ہم طالبان ہیں اور ہم نے اس غیرملکی شہری کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔‘ فری لانس فوٹو جرنلسٹ گیبریئل ٹورسیلو ایک نومسلم ہیں اور آج کل لندن میں رہ رہے ہیں۔ پیس رپورٹر نامی اطالوی آن لائن اخبار کا کہنا ہے کہ گیبریئل نے صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ میں ایک ہسپتال کو فون کر کے بتایا کہ انہیں اغوا کر لیا گیا ہے اور انہیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں۔ ایک افغان خبر رساں ادارے نے مسٹر ٹورسیلو کے ساتھ سفر کرنے والے غلام محمد کے حوالے سے بتایا ہے کہ انہیں تین بندوق برداروں نے اغوا کیا ہے۔ | اسی بارے میں دنیا بھر کے صحافی مشکل میں11 March, 2004 | آس پاس ’عراق میں 86 صحافی ہلاک ہوئے‘20 March, 2006 | آس پاس سپین: الجزیرہ کا صحافی پھر گرفتار17 September, 2005 | آس پاس غزہ میں مغوی غیر ملکی صحافی رہا27 August, 2006 | آس پاس روسی صحافی کے قاتل کی تلاش08 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||