’اطالوی صحافی کو رہا کرو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں صحافیوں کی ایک نمائندہ تنظیم نیشنل یونین آف جرنلسٹس (این یو جے) نے ایک اخباری کانفرنس کے ذریعے افغانستان میں اغوا ہونے والے اطالوی نیوز فوٹوگرافر گبرئیل تارسیلو کی رہائی کے لیئے اپیل کی ہے۔ جمعرات کو ہونے والی اس اخباری کانفرنس میں این یو جے کے عہدیداروں کے علاوہ برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے رکن لارڈ نذیر احمد، مغوی فوٹوگرافر کی کزن دوناتیلا تارسیلو اور پانچ برس قبل طالبان کی قید میں رہنے والی برطانوی صحافی یوان ریڈلی بھی موجود تھیں۔ چھتیس سالہ گبرئیل تارسیلو، جنہیں ’کیش‘ کے نام سے زیادہ جانا جاتا ہے، کو ان کے افغان مترجم سمیت تقریباً دو ہفتے قبل بارہ اکتوبر کے روز پانچ مسلح افراد نے افغانستان میں اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ ہلمند اور قندھار کے درمیان سفر کر رہے تھے۔ گبرئیل چودہ سال سے لندن میں مقیم ہیں جہاں وہ اپنی بیوی سیلویا اور چار سالہ بیٹے گبرئیل کے ساتھ رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل انہوں نے اسلام بھی قبول کر لیا تھا۔ وار زون یا جنگ والے علاقوں میں پیشہ وارانہ فرائض سرانجام دینا گبرئیل کے لیئے کوئی نئی بات نہیں۔ سال دو ہزار تین میں ان کی تصویروں پر مبنی کتاب ’ہارٹ آف کشمیر‘ شائع ہوئی جس میں انہوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاری ’مزاحمتی تحریک‘ کی تصویر کشی کی تھی۔ وہ سال دو ہزار پانچ سے افغانستان میں پیشہ وارانہ فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ کچھ عرصہ قبل افغانستان میں کھینچی گئی اپنی تصویروں پر مبنی کیلنڈر کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گبرئیل نے کہا تھا ’مجھے امید ہے میری تصویریں علاقے (افغانستان) کے لوگوں کی حالتِ زار کے بارے میں یورپ میں آگاہی پیدا کریں گی‘۔
اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لارڈ نذیر نے کہا کہ وہ ’کیش‘ کو آٹھ سال سے جانتے ہیں اور اگر وہ (گبرئیل) لندن میں ہوں تو ریجنٹس پارک کی مسجد میں ان سے ملاقات بھی رہتی ہے۔ لارڈ نذیر کا کہنا تھا ’کیش ایک شاندار فوٹوگرافر ہیں جنہیں انسانی حقوق کے معاملات نمایاں کرنے کا ڈھنگ اچھی طرح آتا ہے۔ میں اغواکاروں سے درخواست کرتا ہوں کہ انہیں غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے تاکہ وہ افغان عوام کی حالت زار کے بارے میں باقی دنیا کو آگاہ کرتے رہیں‘۔ گبرئیل کی کزن دوناتیلا کا کہنا تھا ’وہ مجھے بھائیوں کی طرح عزیز ہیں اور میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ پیشہ وارانہ ایمانداری اس کے لیئے کتنی اہم ہے۔ میں اغوا کاروں سے اپیل کرتی ہوں کہ گبریئل کو بغیر کوئی نقصان پہنچائے رہا کردیا جائے‘۔ سال دو ہزار ایک میں دس روز تک طالبان کی قید میں رہنے والی صحافی ریڈلی نے کہا کہ اگرچہ قید کے دوران ان سے اچھا سلوک کیا گیا تھا لیکن ان کے گھر والے اور دفتر کے ساتھی پریشانی اور خوف کا شکار رہے تھے۔ ریڈلی رہائی کے بعد
اخباری کانفرنس کے دوران گبرئیل کی رہائی کے لیئے اغوا کاروں سے درخواست کرتے ہوئے ریڈلی کا کہنا تھا ’میں آپکی بہن ہونے کے ناطے اپیل کرتی ہوں کہ کیش اور اس کے خاندان کے ساتھ وہی سلوک کریں جو میرے ساتھ کیا گیا تھا، وہ اسلامی حوالے سے ہمارا بھائی ہے‘۔ گبرئیل کے اغوا کاروں کی اگرچہ ابھی تک شناخت نہیں ہوسکی لیکن کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے مغوی فوٹوگرافر کی رہائی کے بدلے مسلمان سے عیسائی ہونے والے افغان عبدالرحمان، کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔ عیسائی ہونے کے بعد عبدالرحمان کو افغانستان میں انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس پر انہیں اٹلی میں پناہ حاصل کرنا پڑی۔ ادھر اٹلی میں گبرئیل کے خاندان نے قومی فٹ بال ٹیم سے درخواست کی ہے کہ وہ گبرئیل کی رہائی کے لیئے مہم چلائے۔ | اسی بارے میں غزہ: سپینی فوٹوگرافر کی رہائی24 October, 2006 | آس پاس فلسطین: سپین کے صحافی کا اغواء24 October, 2006 | آس پاس ’ٹورسیلو کے بدلے عبدالرحمٰن‘18 October, 2006 | آس پاس اطالوی فوٹوگرافر افغانستان میں اغوا15 October, 2006 | آس پاس آسٹرین مغوی لڑکی کا انٹرویو 06 September, 2006 | آس پاس اور اب کونڈولیزا رائس کا ٹیلی فون24 March, 2006 | آس پاس اسلام چھوڑنے پر ’پھانسی کا سامنا‘22 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||