آسٹرین مغوی لڑکی کا انٹرویو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ سال سے قبل لا پتہ ہونے والی آسٹرین بچی نتاشا کمپوش کا ایک انٹرویو سرکاری ٹی وی پر نشر کیا جارہا ہے۔ مذکورہ بچی جو اب اٹھارہ سال کی ہے، گزشتہ ماہ تہہ خانے سے بھاگ کر اپنے والدین کے پاس واپس پہنچ گئی تھی۔ اسے اغواء کرنے والے ولفگینگ پرکلوپل نے اس کے آزاد ہونے کے بعد خودکشی کر لی تھی۔ اس لڑکی کا انٹرویو سرکاری ٹی وی او آر ایف پر نشر کیا جائے گا۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس کے ساتھ اس کی موجودہ تصویر بھی دیکھی جا سکے گی یا نہیں۔ توقع ہے کہ لاکھوں آسٹریلوی نتاشا کا انٹرویو دیکھیں گے۔ اس کا انٹرویو ٹی وی کے علاوہ ریڈیو اور انٹرنیٹ پر بھی سنا جا سکے گا۔ مقامی اخبارات نے جلے حروف میں اس کے انٹرویوز شائع کیے ہیں۔ نتاشا کے اغواء کی کہانی مقامی وقت کے مطابق آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر دیکھی جا سکے گی۔ او آر ایف کا کہنا ہے کہ اس انٹرویو میں لڑکی نے اپنے اغواء کار کے ہمراہ باہر جاتے ہوئے کئی مرتبہ اپنی آنکھوں سے مدد کے لیئے اشارے کرنے کی کوشش کی۔ نتاشا کا انٹرویو لینے والے او آر ایف ٹی وی کے کرسٹوف فیرسٹین نے بتایا کہ’لڑکی نے مجھے بتایا کہ اس نے بارہا لوگوں کو آنکھوں کی مدد سے بتانے کی کوشش کی اور انہیں کہنا چاہا کہ ’برائے مہربانی میری مدد کرو‘، مگر کسی نے اس کی اس خاموش پکار کو نہیں سنا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’انٹرویو کے دوران کئی لمحے ایسے آئے کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے‘۔ او آر ایف کے ایڈیٹر نے نتاشا کو بہت سخت، مضبوط اور سچ بولنے والی لڑکی قرار دیا۔ اغواء کار 44 سالہ ولفگینگ پرکلوپل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے ویانا کے قریب اپنے گھر کے گیراج کے نیچے تہہ خانے میں اس بچی کو قید کر رکھا تھا۔ نتاشا 1998 میں سکول جاتے ہوئے لاپتہ ہوئی تو سراغ رسانوں نے پرکلوپل سے بھی پوچھ گچھ کی تھی۔ اس کا گھر سٹراسہوف میں تھا جو کہ نتاشا کے گھر سے صرف 10 میل کے فاصلے پر تھا۔ پولیس کے ترجمان کے مطابق نتاشا اس وقت قید خانے سے فرار ہوئی جب اس کو اغواء کرنے والا دروازہ بند کرنا بھول گیا تھا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق فیڈرل پولیس کا کہنا ہے کہ ’اس لڑکی کو دن رات قید رکھا جاتا تھا اور صرف گھر کے کاموں کے لیئے باہر نکالا جاتا تھا۔ وہ بدھ کو کار صاف کر رہی تھی جب اسے بھاگنے کا موقع ملا‘۔ پولیس سیڑھیوں کے ذریعے اس تہہ خانے تک پہنچی جہاں نتاشا کو قید رکھا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے اس تہہ خانے کو پرکلوپل باہر جاتے ہوئے الماری سے بند کر دیتا تھا تاکہ آواز باہر نہ جا سکے۔ | اسی بارے میں مغوی بچی آٹھ سال بعد واپس25 August, 2006 | آس پاس دنیا کی چھوٹی ترین بچی 22 December, 2004 | نیٹ سائنس دو سروں والی بچی تصویروں میں07 February, 2004 | نیٹ سائنس بچی اپنی نانی کے پیٹ میں پلی01 October, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||