مغوی بچی آٹھ سال بعد واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ سال سے لا پتہ آسٹرین سکول کی بچی تہہ خانے سے فرار ہو کر اپنے والدین کے پاس واپس پہنچ گئی ہے اور اس کے والدین کا کہنا ہے کہ یہ ان ہی کی بچی ہے۔ جمعہ کوہونے والے ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کے مطابق یہ بچی نتاشا کمپوش ہی ہے جو آٹھ سال قبل لاپتہ ہوئی تھی۔ بچی کی ماں نے آسٹرین ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے اپنی بچی کو دیکھتے ہی پہچان کر اسے اپنی باہوں میں لے لیا۔ مجھے ہمیشہ سے یقین تھا کہ میری بیٹی زندہ ہے‘۔ جس شخص پر نتاشا کے اغوا کا الزام ہے اس نے اسی دن خود کشی کر لی تھی جس دن نتاشا ملی تھی۔ 44 سالہ ولفگینگ پرکلوپل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے ویانا کے قریب اپنے گھر کے گیراج کے نیچے موجود تہہ خانے میں اس بچی کو قید کر رکھا تھا۔ نتاشا 1998 میں اسکول جاتے ہوئے لاپتہ ہوئی تو سراغ رسانوں نے پرکلوپل سے بھی پوچھ کی تھی۔ اس کا گھر سٹراسہوف میں تھا جو کہ نتاشا کے گھر سے صرف 10 میل کے فاصلے پر تھا۔ آسٹرین دارلحکومت میں موجود بی بی سی کے نمائندے کری سکائرنگ کی رپورٹ کے مطابق اکثر آسٹرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ مشتبہ شخص آٹھ سال تک کسی شک کا نشانہ بنے بغیر نتاشا کو چھپائے رکھنے میں کامیاب کیسے ہوا؟
پولیس کے ترجمان ایرچ زوٹلر نے بتایا ہے کہ نتاشا کی حالت اب بہتر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ صبح کے وقت ہماری ساتھی جو کہ نتاشا کی دیکھ بھال کر رہی ہے نے بتایا ہے کہ نتاشا رات کو آرام سے سوئی ہے اور اس نے ناشتہ بھی کیا ہے، وہ بہت پرسکون ہے۔‘ انہوں نے کہا ہے کہ نتاشا کو اس کے ودنوں والدین اور سوتیلی بہن نے بھی پہچان لیا ہے۔ نتاشا کے والدین نے اس کے جسم پر موجود ان نشانات کے بارے میں بتا کر اس کی شناخت کی ہے جن کے بارے میں ہم نہیں جانتے تھے‘۔ نتاشا کی والدہ نے آسٹرین ٹی وی کو بتایا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ اتنے عرصے کے بعد ملنے پر ان کی بیٹی نے ان کو ان کے پیار کے نام یعنی ’ما ما موسی‘ کہہ کر بلایا‘۔ اس کے والد لاڈونگ کاچ جن کی آنکھوں میں آنسو تھے اور آواز بھرائی ہوئی تھی کہتے ہیں کہ مجھے یقین نہیں تھا کہ میں اپنی زندگی میں اپنی بچی کو دوبارہ دیکھ سکوں گا۔میں کبھی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا‘۔ انہوں نے بتایا کہ نتاشا نے مجھے کہا کہ ڈیڈی میں آپ سے پیار کرتی ہوں اور اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا کھلونا کار اب بھی موجود ہے۔ میں نے یہ کار ہمیشہ سے اپنے پاس رکھی تھی اور اپنے ذہن میں یہ خیال کبھی نہیں آنے دیا تھا کہ وہ مر گئی ہے۔ پولیس کے ترجمان کے مطابق نتاشا اس وقت قید خانے سے فرار ہوئی جب اس کو اغوا کرنے والا دروازہ بند کرنا بھول گیا تھا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق فیڈرل پولیس کا کہنا ہے کہ ’اس لڑکی کو دن رات قید رکھا جاتا تھا اور صرف گھر کے کاموں کے لیے باہر نکالا جاتا تھا۔ وہ بدھ کو کار صاف کر رہی تھی جب اسے بھاگنے کا موقع ملا‘۔
ابھی تک اس بات کا پتہ نہیں چل سکا کہ نتاشا کو اغوا کرنے والے کا مقصد کیا تھا اور کیا اس نے نتاشا کو جنسی طور پر بھی ہراساں کیا تھا؟ پویس کے مطابق اس کا لڑکی کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ اس نے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔ پولیس نے بی بی سی کے پی ایم پروگرام کو بتایا ہے کہ پرکپل اس کو کھانا دیتا تھا اور اس کی دوسری ضرویات پوری کرتا تھا اور اس نے نتاشا کو لکھنا، پڑھنا اور حساب بھی سیکھایا تھا۔ تہہ خانے کی لی جانے والی تصوریروں سے پتا چلتا ہے یہ ایک بے ترتیب، گندا اور چھوٹا سا کمرا تھا جس میں اندر داخل ہونے کا راستہ بھی بہت چھوٹا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے اس تہہ خانے کو پرکلوپل باہر جاتے ہوئے الماری سے بند کر دیتا تھا تاکہ آواز باہر نہ جا سکے۔ | اسی بارے میں عراق سے پولینڈ کی خاتوں کا اغواء28 October, 2004 | آس پاس لڑکے پر حملہ کرنے والی لڑکی گرفتار04 June, 2005 | آس پاس لڑکیاں کہاں ہیں؟04 March, 2004 | آس پاس امریکہ: پانچ سالہ بچی کو ہتھکڑی23 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||