امریکہ: پانچ سالہ بچی کو ہتھکڑی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلوریڈا کے ایک سکول میں بے قابو ہو جانے والی ایک پانچ سالہ بچی کو ہتھکڑی لگانے والے پولیس اہلکاروں کو ایک وکیل نے مقدمہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ سکول کے ٹیچر اور اسسٹنٹ پرنسپل نے اس پانچ سالہ بچی کو قابو نہ کر پانے پر پولیس کو بلا لیا تھا۔ پولیس اہلکاروں نے بچی کو ہتھکڑی لگا دی اور ان کا یہ عمل کلاس روم میں لگے ویڈیو کیمرے میں ریکارڈ ہو گیا۔ یہ کیمرے سینٹ پیٹرس برگ سکول میں ذاتی اصلاح کی مشق کے سلسلے میں لگائے گئے ہیں۔ بچی کی والدہ کے وکیل نے کہا کہ پولیس کا یہ عمل ان کے لیے ناقابلِ فہم ہے۔ یہ ویڈیو ریکارڈنگ وکیل نے اس ہفتے جاری کی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سارے معاملے کا آغاز اس بات سے ہوا کہ بچی نے حساب کا سبق پڑھنے پر آمادہ نہیں تھی۔ اور جب ٹیچر نے اسے آمادہ کرنے کی کوشش کے تو اس نے بورڈ پر لگے ہوئے کاغذ پھاڑنا شروع کر دیے اور اس کے بعد جس نے بھی اسے روکنے کی کوشش کی اس نے اس پر گھونسے چلانا شروع کر دیے۔ اس پر جب اس کی والدہ کو بلانے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ وہ کم از کم ایک گھنٹے تک سکول نہیں آ سکیں گی۔ اس پر ٹیچر نے پولیس کو فون کر دیا۔ فون ملتے ہی فوری طور پر تین اہلکار سکول پہنچ گئے اور انہوں نے چیختی چلاتی ہوئی بچی کے ہاتھ اس پشت پر لے جا رک ہتھکڑی لگا دی۔ اور پھر اسے پولیس کی گاڑی میں ڈال اس کی والدہ کے پاس لے گئے۔ سینٹ پیٹرس برگ پولیس نے اس واقعے پر کسی قسم کا کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے اور صرف اتنا کہا ہے کہ معاملے کی تحقیق کی جا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||