بچے کم ہیں، جاپان کی پریشانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان کی حکومت نے کہا ہے کہ اگلے پانچ سالوں کے دوران بیس اور تیس سالوں کی خواتین کو مزید بچے پیدا کرنے پر راضی کرنے کے لیے حکومت کی پالیسی میں جلد از جلد تبدیلیاں لانا ضروری ہے۔ جاپان میں اس وقت دنیا کی سب سے کم شرحِ پیدائش ہے۔ ٹوکیو میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کہتے ہیں کہ جاپان میں شرح پیدائش اتنی گِر گئی ہے کہ اس صورتِ حال کے لیے جاپانی زبان میں ایک نیا لفظ شوشیکا رواج پا گیا ہے جس کا مطلب بچوں سے خالی معاشرہ۔ اگر عورتوں نے بچے پیدا کرنے کے بارے میں اپنا رویہ نہ بدلا تو اس صدی کے وسط تک جاپان کی آبادی مزید بیس فیصد کم ہو جائے گی اور جو لوگ موجود ہوں گے ان میں سے آدھے سے زیادہ بوڑھے اور ضعیف ہوں گے جن کی دیکھ بھال اور حفظانِ صحت کا انتظام مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے گا۔
سرکاری طور پر شائع ہونے والے قرطاس ابیض یعنی وہائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ جاپان کی پچھلی بال بہار یعنی ’بیبی بوم‘ کے دوران پیدا ہونے والی لڑکیاں اب 20 اور 30 کے پیٹے میں ہیں اور اگر انہیں قائل کیا جائے کہ مزید بچے پیدا کرنا جاپان کی ایک قومی ضرورت ہے تو شاید قلتِ آبادی کی یہ گھمبھیر صورتِ حال کچھ بہتر شکل اختیار کر سکے۔ واضح رہے کہ بیس سے پینتیس سال کی عمر کی جاپانی عورتیں اس وقت ریکارڈ تعداد میں غیر شادی شدہ ہیں۔ اگرچہ حکومت نے نرسریوں کا نظام اور زچگان کے لیے سہولتوں کا انتظام بہتر کر کے زیادہ بچے پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے لیکن خواتین کی انجمنوں کا کہنا ہے کہ معاشرے کا عمومی رویہ بچے پیدا کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||