امریکی قید سے تین بچے رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خلیج گوانتانامو میں امریکی فوج کے قید خانے کیمپ ڈیلٹا میں دو سال سے بغیر کسی الزام کے قید تین کمسن ’دہشت گرد‘ رہائی پانے کے بعد افغانستان میں اپنے گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔ یہ بچے جن کی عمریں تیرہ سے پندرہ سال کے درمیان ہیں خلیج گوانتانامو کے قید خانے کے سب سے کم عمر قیدی تھے۔ کابل پولیس کے سربراہ نے خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا کہ بچوں کی حالت اچھی ہے اور انہیں دوسرے قیدیوں سے الگ رکھا گیا تھا۔ عالمی تنظیم ریڈ کراس نے جس نے ان بچوں کی رہائی اور افغانستان واپسی میں اہم کردار ادا کیا بچوں کی عمر کے پیش نظر ان کی واپسی کی خبر کی زیادہ تشہیر نہیں کی۔ یہ بچے جیسے ہی کابل پہنچے تو ان کے خاندان والے فوراً اپنے ساتھ لے گئے۔ ان میں سے ایک بچے کو ریڈکراس کے طیارے میں قندھار لے جایا گیا جہاں اس کے گھر والے پہلے سے موجود تھے۔ خیال ہے کہ اس کا تعلق جنوب مغربی ضلع ہلمند سے ہے۔ ان بچوں کی رہائی کا فیصلہ امریکی انتظامیہ میں انتہائی اعلیٰ سطح پر کیا گیا ہے۔اب تک خلیج گوانتانامو سے ستاسی قیدی رہا کئے گیے ہیں۔ گوانتانامو میں چھ سو سے زیادہ قیدی اب بھی بغیر مقدمہ کے قید ہیں۔ ان میں سے زیادہ تعداد افغانستان کے سابق حکمران طالبان اور القاعدہ کے ارکان کی ہے۔ امریکہ ان لوگوں پر دہشت گردی اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام لگاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||