BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 October, 2006, 07:33 GMT 12:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کونڈو لیزا رائس مشرق وسطیٰ میں
رائس نے اس سے قبل جولائی میں مشرق وسطی کا دورہ کیا تھا
امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو تیز کرنے کے سلسلے میں ان دِنوں خطے کا دورہ کر رہی ہیں۔

اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں انہوں نے سعودی عرب کے شاہ عبداللہ سے دو طرفہ امور پر بات چیت کی۔ کونڈو لیزا رائس سعودی عرب کے دورے کے بعد مصر، اسرائیل اور فلسطین کا دورہ بھی کریں گی۔

حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان اگست میں ایک ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد اس خطے کا یہ ان کا پہلا دورہ ہوگا۔ امریکہ پر اس لڑائی کے دوران فوری جنگ بندی کی حمایت نہ کرنے کی وجہ سے تنقید کی گئی تھی۔

امریکہ میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس خطے میں امریکی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے تاہم پھر بھی صدر جارج بش کی یہی کوشش ہے کہ وہ اس بات کا اظہار کریں کہ امریکہ اب بھی خطے میں پائیدار امن کی کوششوں کے حوالے سے متحرک ہے۔

کونڈو لیزا رائس کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے دورے کا مقصد اعتدال پسند مسلمان قوتوں کی مدد کرنا ہے جو ان کے مطابق لبنان اور عراق میں جمہوری عمل کی بحالی کی کوشش میں مصروف ہیں۔

 مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ کا مقصد اس خطے میں بسنے والے اعتدال پسند مسلمان طبقے کی آواز کو سامنے لانا ہوگا
نامہ نگار

سعودی عرب کے مغربی شہر جدہ میں اپنی آمد سے قبل ان کا کہنا تھا کہ امریکہ عراق اور لبنان میں مختلف ذرائع اور سیاسی حمایت کے ذریعے استحکام کے لیئے کی جانے والی کوششوں میں سعودی عرب کی شمولیت کا خواہاں ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران ان کا مقصد اس خطے میں بسنے والے اعتدال پسند مسلمان طبقے کی آواز کو سامنے لانا ہوگا تاہم نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کی امیدیں اب بھی معدوم نظر آتی ہیں۔

حزب اللہ کے ساتھ لڑائی نے اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت کی پوزیشن کو کمزور بنا دیا ہے۔ فلسطینی رہنما محمود عباس بھی حماس سے اسرائیل کو تسلیم کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں اور اس کے بغیر امریکہ کسی صورت حماس سے بات کرنے کو تیار نہیں ہو گا۔

جمعہ کو اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت نے کہا تھا کہ انہیں آئندہ چند دنوں میں محمود عباس سے ملاقات کی توقع ہے۔ جنوری میں ایرئیل شیرون سے اولمرت کو اقتدار کی منتقلی کے بعد یہ ان دونوں رہنماؤں کی پہلی باضابطہ بات چیت ہو گی۔

بش کا ’اوورٹائم‘
لبنان نے بش کو چھٹیوں میں بھی مصروف رکھا
عراق میں خونریزی
ہلاکتیں، مزاحمت: اعداد و شمار کے آئینے میں
بوب وُڈورڈ مزاحمت کوخفیہ رکھا
بش انتظامیہ کی عراق پالیسی کوخفیہ رکھا گیا
لبنانتعمیر نو کا چیلنج
چھ سو کلومیٹر لمبی سڑکیں اور 150 پُل تباہ
اسی بارے میں
عراق: دھماکوں میں 25 ہلاک
17 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد