BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 September, 2006, 09:11 GMT 14:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سری لنکا: گیارہ مسلمانوں کی لاشیں
فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تازہ حملے کا شبہہ تامل باغیوں پر کیا جا رہا ہے
سری لنکا میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی حصے میں آبادی سے دور ایک علاقے سے گیارہ مسلمان شہریوں کی لاشیں ملی ہیں۔

امپارہ ضلع سے ملنے والی لاشیں مردوں کی ہیں جو بظاہر وہاں کسی آبپاشی کے نظام کی مرمت کے لیئے گئے تھے۔ حملے کی جگہ سے بچ جانے والا ایک زخمی شخص بھی ملا ہے۔

فوج کے ترجمان بریگیڈئر پرساد سمارا سنگھے کا کہنا ہے کہ اس حملے کا شبہہ تامل باغیوں پر کیا جا رہا ہے۔ باغیوں کی جانب سے فوج کے اس الزام کے بارے میں ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

سری لنکا میں کئی ماہ تک چلنے والی لڑائی کے دوران تقریباً بیس ہزار افراد کو اپنا گھر چھوڑنا پڑا ہے اور سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ مرنے والے افراد اتوار کو امپارہ میں ایک آبپاشی کے منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ جب ان افراد کی واپسی نہ ہوئی تو پیر کی صبح ایک ٹیم کو تحقیقات کے لیئے اس جگہ بھیجا گیا جہاں انہیں ان افراد کی لاشیں پڑی ملیں۔

خبررساں ادارے رائٹرز نے فوج کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد پانی کے بہاؤ کو روکنے والے دروازے کے رنگ و روغن کے لیئے وہاں گئے اور لاپتہ ہو گئے۔ ان کی لاشیں ایسی حالت میں ملی ہیں کہ جیسے ان کے جسموں کے ٹکڑے کیے گئے ہوں۔

امپارہ ضلع میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ سری لنکا میں سنہالی اور تامل کے بعد مسلمان تیسری بڑی اقلیت ہیں۔

 تامل باغیوں نے ملک کے شمال اور مشرقی حصے میں اپنے لیئے ایک علیٰحدہ ملک کے قیام کے لیئے لڑائی کا آغاز 1970 میں کیا اور اس لڑائی میں اب تک ساٹھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کولمبو میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکومت اور باغیوں کے درمیان تیزی سے بڑھنے والے پر تشدد واقعات میں مسلمان نشانہ بن رہے ہیں۔

جولائی میں حکومتی دستوں اور تامل باغیوں کے درمیان لڑائی کے بعد جنوب مشرقی حصے قصبے موتر میں بسنے والے ہزاروں مسلمانوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر علاقے سے جانا پڑا تھا۔

2002 میں تامل باغیوں اور حکومت کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا جو تشدد کے حالیہ واقعات کے باوجود تکنیکی اعتبار سے اس وقت بھی قائم ہے۔

تامل باغیوں نے ملک کے شمال اور مشرقی حصے میں اپنے لیئے ایک علیٰحدہ ملک کے قیام کے لیئے لڑائی کا آغاز 1970 میں کیا اور اس لڑائی میں اب تک ساٹھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد